شاہراہِ ریشم: تباہی اور نفسا نفسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہراہِ ریشم کے ساتھ ساتھ آباد کوٹ گلہ اور اتلے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں اور وہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں پچھلے پانچ دن سے ملبے تلے دبی پڑی ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے ان میں زندہ لوگ بھی ہوں لیکن پانچ دن گزرنے کے بعد اس بات کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں کہ ان میں سے کوئی زندہ بھی بچ جائے گا۔ اس طرح مانسہرہ کے جانب سیرگرام نامی گاؤں تباہ ہوا ہے۔ جاپانی امدادی ٹیم نے اس علاقے میں لاشیں نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔لیکن بڑے جھٹکوں کے بعد آنے والے چھوٹے جھٹکوں اور بارش سے امدادی کام متاثر ہوتا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم پشاور سے علاقے میں آئی ہوئی ہے اور مقامی ڈاکٹر بھی ان کی مدد کر رہے ہیں۔ پاکستان آرمی کی ٹیم کے لوگ بھی علاقے میں پہنچ چکے ہیں لیکن وہ جاپانی امدادی ٹیم کی مدد ہی کر رہے ہیں۔ پاکستانی آرمی کے پاس ایسا کوئی سامان نہیں جس کے ذریعے وہ ملبے تلے دبے ہوئے لوگں کو نکال سکیں۔ اس علاوہ متاثرہ علاقوں میں تحصیل الائی کا علاقہ ہے جو تمام کا تمام پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے اس تحصیل کو جانے والی سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی ہے یا تودے گرنی سے بند ہو گیی ہے اس لیے اس تک امداد کی رسایی ممکن ہی نہیں ہو سکی ۔ اس تحصیل میں انتظامیہ کے لوگ بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ وہاں ملبے تلے دبے لوگوں کو زندہ نکالنے کا امکان ختم ہوتا جا رہا ہے البتہ لاشیں نکالی جا سکتی ہیں۔ علاقے میں عجیب نفسانفسی کا عالم ہے جو لوگ اپنے کسی کسی عزیز کی لاش نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ اس کی تدفین کرتے ہیں اور پھر کسی اور کو نکالنے میں لگ جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||