’صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے وزیر اعظم کی ایک پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تئیس ہزار ہے جبکہ اکیاون ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا تھا کہ 33,000 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بعض حکام کی طرف سے تیس سے چالیس ہزار لوگوں کے ہلاک ہونے کی بھی بات کی گئی تھی۔ میجر جنرل سلطان نے مختلف ذمہ دار افراد کی طرف سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس تنازعہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ان اعداد و شمار کا پتہ چلانے کے لیے کوئی پیمانہ نہیں ہے اور صرف تباہی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا کے کتنے لوگ متاثر ہوئے ہوں گے۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت اصل بات یہ کہ بہت وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے 432 اہلکار ہلاک اور 709 زخمی ہوئے ہیں۔ فوج کی طرف سے امدادی کارروائیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے میجر جنرل سلطان نے کہا کہ پیر کو دو ڈویژن فوج کو متحرک کیا گیا ہے اور کل شام تک مزید بیس ہزار فوجی مختلف مقامات پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پہلے سے موجود فوج کو ملا کر کل چالیس سے پچاس ہزار فوجی متاثرہ علاقے میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چونتیس اور امریکہ کے آٹھ ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان فوج پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو باتیں کی گئی ہیں وہ ان لوگوں نے کی ہیں جو شدید صدمے میں ہیں اور ان کا بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ فرنٹیر کور کے جوان کہیں بیٹھے رہے اور انہوں نے مرتے ہوئے لوگوں کی مدد نہیں کی میجر جنرل سلطان نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا پچاس سال سے فوج باغ میں موجود ہے اور اب اگر کوئی کہے کہ وہاں فوج نہیں تھی تو اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ میجر جنرل سلطان نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں نہیں ہے جہاں اکثر اس طرح کے زلزلے آتے ہوں اور لوگ ان سے نمٹنے کے لیے تیار رہتے ہوں۔ انہوں نے تنقید کو بلا جواز قرار دیا۔ انہوں نے تصدیق کی بہت سے ایسے علاقے تھے جہاں منگل تک نہیں پہنچا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں بھی پہنچنے کی تیاری ہو چکی ہے اور اگر موسم نے اجازت دی تو وہاں امداد فوری طور پر پہنچنا شروع ہو جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||