BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالاکوٹ کو پانی چاہیے

بالاکوٹ میں ملبے سے نکالے جاناے والے بچہ
بالاکوٹ میں چھ سالہ سلطان زندہ بچائے جانے والوں میں شامل تھا۔
’اگر آپ زلزلہ کے متاثرین کےلیے کچھ کرسکتے ہیں تو بالاکوٹ میں پانی پہنچا دیجیے۔ یہاں جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں‘۔ قاری جمیل نے تین لاشیں ایک قبر میں اتار کر رندھی ہوئی آواز میں یہ کہا۔ ان کے ہونٹ پیاس سے خشک اور زبان چمڑا بن گئی تھی۔

شہر بالاکوٹ (نزد مانسہرہ) زلزلہ سے مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے، شہر کی ایک تہائی آبادی کے ہلاک ہوجانے کا خدشہ ہے اور جو باقی بچے ہیں وہ تین روز سے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ امدادی سامان پہنچ رہا ہے لیکن ناکافی ہے۔ پانی کی شدید قلت ہے۔

بالاکوٹ میں سب سے زیادہ سرگرمی قبرستان میں ہے جہاں بارہ میتیں ایک قبر میں اتاری جارہی ہیں، گورکن اور عام لوگ قبریں کھود کھود کر تھک چکے ہیں۔ ان میں اتنی سکت نہیں کہ ہر مردے کے لیے الگ قبر کھود سکیں۔

ایک اندازے کے مطابق منگل کی صبح تک مرنے والے ایک تہائی لوگوں کو دفن کردیا گیا ہے باقی لوگ مکانوں اور سکولوں کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں جن کی لاشوں سے بدبو پھیلنا شروع ہوگئی ہے۔

قاری محمد جمیل نے ایک قبر میں اپنی ماں، بھابھی اور ایک بھتیجی کی میتیں اتاریں اور ان کے رشتے داروں نے جلدی جلدی ان پر مٹی ڈالنی شروع کی کیونکہ ابھی انہوں نے ملبہ سے اپنی خالہ اور اور دوسرے رشتے داروں کی لاشیں نکالنی تھیں۔

قاری جمیل نے کہا کہ انہوں نے میتوں کو نہلائے بغیر کفن پہنا کر دفن کردیا ہے کیونکہ نہلانے کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا یہاں تو پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بالاکوٹ میں پانی خشک ہوچکا ہے اور جو پانی زلزلہ سے پہلے موجود تھا وہ گندا ہوگیا ہے اور پینے کے لائق نہیں۔

 قاری جمیل نے کہا کہ بالاکوٹ میں تدفین کے لیے کفن بھی پیر کے روز سے ملنے شروع ہوئے ہیں اس سے پہلے تو لاشوں کو کفن کے بغیر مٹی میں دبا دیا گیا۔

قاری جمیل نے کہا کہ بالاکوٹ میں تدفین کے لیے کفن بھی پیر کے روز سے ملنے شروع ہوئے ہیں اس سے پہلے تو لاشوں کو کفن کے بغیر مٹی میں دبا دیا گیا۔ ارگرد کے عام لوگ مردوں کے لیے کفن لے کر شہر میں آرہے ہیں۔ ان کےلواحقین کی مدد کے لیے پھاوڑوں کی مدد سے ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں اور قبریں کھود رہے ہیں۔ متاثرین کے لیے اردگرد کے عام لوگوں کی مدد سرکاری امداد سے کہیں زیادہ ہے۔
لاشوں کی تدفین
تدفین کے لیے کفن پیر کے روز سے ملنے شروع ہوئے

امدادی کام شروع ہوچکا ہے، غیر ملکی ٹیمیں بھی پہنچ گئی ہیں۔ سرکاری ہیلی کاپٹر بھی چکر لگا رہے ہیں۔ شہر میں ڈاکٹروں نے خیمے نصب کرکے زخمیوں کا علاج شروع کردیا ہے۔ جو لوگ زیادہ زخمی ہیں انہیں ایبٹ آباد منتقل کیا جارہا ہے جہاں ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔

بالاکوٹ کے تمام مکانات چاہے کچے تھے یا پکے منہدم ہوچکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ رہنے کے لائق نہیں کیونکہ ان میں بہت دراڑیں آگئی ہیں۔

دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی سکولوں اور کالجوں میں زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ گرلز کالج میں زلزلہ کے وقت چھ سو لڑکیاں تھیں جن میں سے اکثر ملبہ تلے دبے گئیں اوربہت سی منگل کی صبح تک دبی ہوئی تھیں۔ ہر اسکول میں سینکڑوں بچے ملبہ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ایک اسکول میں چار سو بچے زیر تعلیم تھے جن میں سے پیر کے روز صرف تیس بچے زندہ نکالے گئے۔

متاثرہ لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جن میں سے کچھ لوگوں کو جہازوں سے گرائے گئے خیمے ملے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ جو لوگ زندہ بچے ہیں وہ کس کے لیے جئیں گے؟ اکثر لوگوں کا پورا پورا خاندان مٹ چکا ہے۔ شہر میں سوگواری ہے، بین ہیں اور آہ و زاری ہے۔ جو امداد دینے آرہے ہیں ان کی آنکھو میں بھی آنسو ہیں۔

66امدادی کارروائی
امدادی کارروائیاں ناکافی ہونے کی وجہ سے تشویش
66بالاکوٹ سے رپورٹ
ایک المیہ، جب میں نے صحافت چھوڑ دی۔۔۔۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد