BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 October, 2005, 00:08 GMT 05:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لوگوں کی فوج پر شدید تنقید
ای میلز کے ذریعے پاکستان میں آنے والے زلزلے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستانی فوج پر شدید تنقید کی ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں فوراً کیوں نہیں پہنچ پائی اور کیوں انسانی جانوں کو فوری طور پر بچایا نہیں جا رہا۔اکثر ای میلز میں لوگوں نے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیرِ اعظم شوکت عزیز پر سخت ترین الفاظ میں اپنے غصہ نکالاہے۔

اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے لوگوں نے نہ صرف پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر نکتہ چینی کی ہے بلکہ سیاست دانوں اور بعض ای میلز میں علما کی خاموشی پر بھی ناراضی واضح کی ہے۔ البتہ بعض لکھنے والوں نے حکومت اورفوج پر تنقید کو نادرست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید سے متاثرہ افراد کو کچھ نہیں ملے گا لہذا فوری طور پر لوگوں کی عملی مدد کرنی چاہیے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی سینکڑوں ای میلز میں سے چند ایک یہ ہیں۔

آسٹریلیا سے متین عباس لکھتے ہیں: ’ فوج کی انجینیئرنگ کور نے تباہ حال علاقوں میں بلڈوزر اور ملبہ ہٹانے کا بھاری سامان منتقل کیوں نہیں کیا۔ کیا عوام کے پیسے کو صرف وزیرستان اور بلوچستان میں عوام کے خلاف استعمال کیا جانا ہے۔ ‘

انہوں نے علماء پر بھی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’مصیبت کی اس گھڑی میں وہ (علماء) آخر کہاں ہیں جن کے سروں پر ریشمی پگڑیاں بندھی رہتی ہیں۔‘

پاکستان سے امین اللہ شاہ کہتے ہیں: ’میری حکومت سے التجا ہے کہ وہ اب امریکہ کی خوشنودی کو بالائے طاق رکھ دے اور اللہ کی خوشنودی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیرستان میں موجود فوج اور ہیلی کاپٹروں کو ان مظلوم پاکستانیوں کی جان بچانے میں استعمال کرے۔‘

لاہور سے ٹیپونوید لکھتے ہیں: ’لوگوں کی مدد کے لیے ابھی تک فوج متاثرہ مقامات تک نہیں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب فوج کو اپنے ہی ملک پر قبضہ کرنا ہوتا ہے تو اس مقصد کے لیے اسے جہاں بھی پہنچنا ہو فوراً پہنچ جاتی ہے۔‘

لندن سے عامر رضا کا کہنا ہے: ’ہمارے سیاست دانوں، فوج اور علما کے لیے شرم کا مقام ہے کہ لوگ مر رہے ہیں مگر انہیں ابھی تک امداد نہیں مل سکی۔‘

کراچی سے احمد نواز لکھتے ہیں: ’پاکستان کی فوج پیشہ ورانہ فوج ہے تو پھر ایسا کیوں ہے کہ کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں ہے۔ خدا کے لیے اپنے بھائیوں کے لیے کچھ کریں۔‘

لاہور سے کاشف اسلام کا کہنا ہے: ’اس مشکل گھڑی میں اگر کوئی ایک پتھر بھی ہٹاتا ہے تو اس کی قدر کرنی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اپنی سی کوشش کر رہی ہے مگر حکومت پر تنقید کرنے سے ان لوگوں کی مشکلات کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا یہ تنقید برائے تنقید بند ہونی چاہیے۔‘

خانپور سے شاہد ارشاد لکھتے ہیں: ’حکومت سڑکیں کھولنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اگر اس کام میں کئی روز گزر گئے تو کیا فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سکولوں، ہسپتال اور سرکاری عمارتوں کے گرنے کی تحقیقات کرائے۔‘

ملتان سے نادیہ ملک کہتی ہیں: ’پاکستان کے سارے وسائل اسلام آباد کے مارگلہ ٹاور کا ملبہ ہٹانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں لیکن (پاکستان کے زیرِ انتظام) کشمیر اور باقی علاقوں میں کیا فرشتوں کے اترنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی فوج اب کہاں ہے؟ صدر اور وزیرِ اعظم دو دن تک بھوکے، پیاسے کھلے آسمان کے نیچے وقت گزار کر دیکھیں کہ آفت زدگان پر کیا گزر رہی ہے۔‘

خیرپور سے ظفر شیخ لکھتے ہیں: ’حکومت جو کر سکتی تھی کر تو رہی ہے۔ اتنی بڑی مصیبت تو پاکستان میں پہلی بار آئی ہے لہذا سب کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد