اندازوں سے ہلاکتیں کہیں زیادہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ اب تک زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد تینتیس ہزار ہوچکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے جبکہ تقریباً پچاس ہزار افراد زخمی ہیں۔ ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جن میں سے سینکڑوں ابھی بھی زندہ ہیں۔ حکام کے مطابق وہ اس وقت تک مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہ سکتے کیونکہ جب تک ان ہزاروں لوگوں کی گنتی نہیں ہو سکتی جو ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہےجبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ اسی طرح اخبارات میں زلزلے سے متاثرہ افراد اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ تعداد لاکھوں میں ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کیونکہ بیشتر متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام نہیں ہے لہذا ان علاقوں کی رپورٹیں مرکز تک نہیں پہنچی ہیں اور اب تک لگائے جانے والے تمام اندازے صرف ابتدائی اطلاعات پر مبنی ہیں۔ ادھر اطلاعات کے مطابق بالاکوٹ تک جانے والی سڑک دوبارہ بند ہوگئی ہے۔ علاقے میں منگل کی صبح دوبارہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور جس سے مانسہرہ کے قریب سڑک پر گڑھے پڑ گئے اور راستہ بند ہو گیا۔ بالاکوٹ میں طوفانی بارش زلزلے سے بچ جانے والوں کی تلاش کے کام میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ جانے کی وجہ سے غیرملکی ماہرین اور فوج کے جوانوں کے لیے ملبہ ہٹانے کا کام مشکل ہوگیا ہے۔ شہری اب ہاتھوں سے ملبے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں اب تک زیادہ تر لاشیں ہی مل رہی ہیں۔ آج صبح اسلام آباد سے مظفرآباد کے لیے امدادی سامان کے تیس ٹرک روانہ کیے گئے جس میں خیمے، سلیپنگ بیگ اور کمبل شامل ہیں۔ پیر کو بھیجا جانے والا امدادی سامان منگل کی صبح مظفرآباد پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں خوراک بھی روانہ کی گئی جبکہ بالاکوٹ کے لیے بھی کئی ٹرک روانہ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پینتالیس سے زائد ہیلی کاپٹر جن میں امریکی چنوک بھی شامل ہیں امدادی کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں ہموار زمین نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہیلی کاپٹر صرف یہ سامان اوپر سے گرا رہےہیں۔ زلزلے سے متاثرہ سڑکوں کے متعلق تازہ ترین صورتحال کے مطابق بالاکوٹ - کاغان روڈ بری طرح تباہ ہوئی ہے اور اس کو کھولنے میں خاصا عرصہ لگ سکتا ہے۔ کاغان اور مضافات میں زلزلے نے بڑی تباہی مچائی ہے اور زلزلے سے بچ جانے والے لوگ سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کر کے بالا کوٹ پہنچ رہے ہیں۔ گڑھی حبیب اللہ ۔ مظفرآاباد روڈ عام ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے جبکہ پتن ۔چلاس روڈ ابھی تک بند ہے۔ مری ۔ کوہالہ روڈ کو بھی کھول دیا گیا ہے جبکہ کوہالہ ۔ مظفرآباد روڈ کا پندرہ کلومیٹر کا حصہ مکمل تباہ ہو گیا ہے اور اس کو دوبارہ بنانے میں کافی وقت لگے گا۔ آزاد ۔ پٹن فارورڈ کہوٹہ روڈ اور کلیار ۔ راولا کوٹ روڈ ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں ہیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کے مطابق پیر کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک جانے والی تمام سڑکیں کھول دی گئی تھیں اور اس طرح وہاں امدادی سامان پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔ان کے مطابق تمام متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی ہو گئی ہے۔ اسکے علاوہ متاثرہ علاقوں میں فیلڈ ہسپتال اور سرجیکل یونٹ قائم کئے جائیں گے تاکہ زخمی افراد کو وہیں علاج کی سہولت مہیا کی جائے۔اس سلسلے میں پاکستان بھر سے ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||