BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 04:54 GMT 09:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باغ میں کچھ نہیں بچا
زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ضلع باغ کی رہائشی الفت اپنی چھ سالہ بیٹی اور دو بیٹوں کو لے کر اسلام آباد پہنچی ہیں۔

ان کا ایک بیٹا زلزلے میں ہلاک ہو گیا جبکہ دو زخمی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الفت نے بتایا کہ باغ میں تمام ہسپتال، سکول اور دیگر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

’باغ کے زیادہ تر رہائشی زلزلے کی نذر ہو چکے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ بھی کھلے آسمان کے نیچے سردی موسم کی صعوبتوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔‘

الفت کا کہنا ہے کہ باغ ابھی تک کسی بھی طرح کی امداد کا منتظر ہے۔ ’وہاں ابھی تک امداد نہیں پہنچی۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ منہدم عمارتوں کے ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں۔‘

الفت کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان ذاتی گاڑی ہونے کی بنا پر اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں حکومت سے شکوہ ہے کہ بڑے بڑے لوگوں کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں لیکن جو امداد کے صحیح مستحق ہیں جو اس سے محروم ہیں۔

66اپنی مدد آپ
مقامی لوگ ہی ملبےمیں دبے افراد کونکال رہے تھے
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
66جھٹکے کابل تا دِلّی
زلزلہ: شہر شہر تباہی کیسے ہوئی؟
66زندہ ہیں،کیسے نکالیں
زلزلے کی تباہی پر بی بی سی رپورٹروں کی ڈائری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد