زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ضلع باغ کی رہائشی الفت اپنی چھ سالہ بیٹی اور دو بیٹوں کو لے کر اسلام آباد پہنچی ہیں۔ ان کا ایک بیٹا زلزلے میں ہلاک ہو گیا جبکہ دو زخمی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الفت نے بتایا کہ باغ میں تمام ہسپتال، سکول اور دیگر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ’باغ کے زیادہ تر رہائشی زلزلے کی نذر ہو چکے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ بھی کھلے آسمان کے نیچے سردی موسم کی صعوبتوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔‘ الفت کا کہنا ہے کہ باغ ابھی تک کسی بھی طرح کی امداد کا منتظر ہے۔ ’وہاں ابھی تک امداد نہیں پہنچی۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ منہدم عمارتوں کے ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں۔‘ الفت کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان ذاتی گاڑی ہونے کی بنا پر اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔ انہوں حکومت سے شکوہ ہے کہ بڑے بڑے لوگوں کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں لیکن جو امداد کے صحیح مستحق ہیں جو اس سے محروم ہیں۔ |