دیر ہوئی، مجھے افسوس ہے: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل مشرف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے ہونے والی امدادی کاموں میں دیر کے لئے انہیں افسوس ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ زلزلے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، صوبہ سرحد کے بالائی اور شمالی علاقوں کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس زیادہ ہیلی کاپٹر بھی نہیں تھے جن سے لوگوں کی مدد کی جا سکتی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب ہر جگہ امداد پہنچ چکی ہے۔تاہم صدر کا کہنا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ سرکاری ٹیلیوژن پر بدھ کی شب قوم سے اپنے خطاب میں صدر نے بین الاقوامی برادری اور ملک کے مخیر افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرین کے لئے دل کھول کر امداد دیں۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک زلزلے سے ہونے والے نقصان کا پوری طرح اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نقصان کے اندازے کے لئے سیٹلائٹ تصاویر سے مدد لی جا رہی ہے تاکہ ان متاثرہ گاؤں میں بھی پہنچا جا سکے جن تک ابھی تک رسائی نہیں ہوئی ہے۔ صدر نے اس زلزلے کو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک کو اس سانحے سے جرات مندی اور پوری قوت سے نبٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے سانحے سے نبٹنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔صدر نے کہا کہ زلزلے کے آٹھ سے بارہ گھنٹے تک تو نقصان کے بارے میں بالکل ہی پتہ نہیں چلا۔ آفت کے بوجھ سے ڈرنا نہیں ہے اور اس مصیبت کو بہتری میں تبدیل کرنا ہے' صدر نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اس مصیبت کا شکار صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد،باغ اور راولا کوٹ ہیں اور صوبہ سرحد کے چند اضلاع مانسہرہ،بالاکوٹ، بٹگرام صدر نے امدادی کاروائیوں پر تنقید کے بارے میں کہا کہ ہمیں کسی پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہئے اور کیچڑ اچھالنا ہار تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے اس سانحے سے مقابلہ کرنے کے لئے مثالی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔ جنرل مشرف نے فوج، این جی اوز اور رضاکاروں کو بھی سراہا۔ صدر نے بین الاقوامی برادری کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے مختلف ممالک سے میڈیکل ٹیمیں فی الفور پاکستان روانہ کیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ترکی، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، چین، جرمنی، روس، فرانس، جاپان، سپین، سوئٹزرلینڈ، ہنگری، بنگلہ دیش اور ایران کا نام لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کو امداد کی پیشکش کی۔ صدر کے مطابق انہوں نے یہ پیشکش قبول کر لی ہے۔ صدر نے کہا کہ زلزلے کے فوراً بعد مظفرآباد اور وادی نیلم کو جانے والی سڑکیں بند ہو گئیں۔اس کے علاوہ بہت سے دیہات تک پہنچنے کے زمینی راستے بھی بند ہو گئے۔ صدر نے کہا کہ اس زلزلے میں فوج کے بھی چار سو افسر و جوان ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنرل مشرف کے مطابق مانسہرہ اور بالا کوٹ کے علاقے میں فوج موجود نہیں تھی۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب ان علاقوں میں فوج پہنچ گئی ہے جس نے پہلے سڑکیں کھولی ہیں اور پھر لوگوں تک امداد پہنچائی ہے۔ صدر نے کہا کہ اس کے علاوہ فوج لوگوں کو ملبے سے نکال بھی رہی ہے۔ صدر نے اس سانحے سے نبٹنے کے لئے دو حکمت عملیوں پر کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پرلوگوں کو امداد پہنچانے اور ان کی مدد کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صدر نے اسلام آباد میں مارگلہ ٹاور کی بلڈنگ سے افراد کو نکالنے پر مدد دینے پر برطانوی ریسکیو ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی چنوک اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے آ جانے سے متاثرہ افراد کی امداد میں بڑی مدد ملی ہے۔ جنرل مشرف کے مطابق ایک ڈویژن فوج مانسہرہ اور بلا کوٹ بھیج دی گئی ہے اور بٹگرام میں بھی ایک بریگیڈ امدادی کاروائی کے لئے پہنچ گئی ہے۔ صدر نے کہا کہ فوج نے زلزلے کے بہتر گھنٹے میں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے افراد کو اس وقت خیموں اور کمبلوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں خیمے نایاب ہو گئے ہیں جس کے بعد بیرون ملک سے خیمے منگوائے جا رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ خوراک کے پیکٹ بھی ان علاقوں میں بھجوائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مالی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم صدر کا کہنا تھا کہ اس سارے امدادی عمل کو ایک تنظیمی طریقے سے چلایا جائے۔ اسسلسلے میں صدر نے کہا کہ ملک کے تاجر اور مخیر حضرات صدارتی فنڈ میں دل کھول کر عطیات دیں۔ صدر نے یقین دلایا کہ اس سارے عمل کو شفاف رکھا جائے گا۔جنرل مشرف نے عوام سے کہا کہ وہ تمام متاثرہ علاقوں میں فوجی ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کریں اور اس کے ذریعے اپنی امداد متاثرہ لوگوں میں تقسیم کروائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||