’لوگ گھاس کھا رہے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں علائی سے بٹا گرام تک گیارہ گھنٹے پیدل چل کر آیا ہوں۔ اور اس کے بعد بٹا گرام سے گاڑی میں بیٹھ کر ایبٹ آباد پہنچا ہوں۔ ’علائی میں ہرطرف آپ کو لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں گی۔ ہر گھر میں رونا دھونا ہے، مکمل تباہی ہے، کوئی بھی گھر محفوظ نہیں ہے، مکانات گر چکے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ میڈیا میں کسی کو یہ ہی نہیں معلوم ہے کہ علائی کہاں ہے۔ اس لیے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ ’اس علاقے کی آبادی دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ یہ ایک سب ڈویژن ہے۔ اس میں میں صرف تحصیل علائی کی بات کر رہا ہوں جہاں تمام مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ ’وہاں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے وہاں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی نجی تنظیم کوئی کام کر رہی ہے۔ وہ بھی اس لیے کہ اس علاقے کا رابطہ باہر کی دنیا سے بالکل کٹ چکا ہے۔ ’یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ملبے تلے دبا ہوا کوئی شخص وہاں زندہ بھی بچا ہو۔ ’تحصیل علائی میں گنگوال ایک گاؤں ہے۔ وہ گاؤں بالکل تباہ ہو چکا ہے اور وہاں کہ لوگ مجھے یہ بتا رہے ہیں کہ تقریباً پانچ سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ’اس طرح ایک اور گاؤں بیاری مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اس میں کوئی بھی مکان نہیں بچا اور وہاں ایک سو بیس کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ میں جو نمبر بتا رہا ہوں یہ وہ ہیں جہاں لاشیں نکال کر دفن کی گئی ہیں۔ ’وہاں کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ لوگ گھاس اور کچی سبزیاں کھا رہے ہیں۔ پہلے لوگ وہاں زلزلے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے اب وہاں سردی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں کتنی سردی ہو جاتی ہے کہ گزشتہ سال علائی میں سولہ فٹ برف پڑی تھی۔ یہ ایک بہت ٹھنڈا علاقہ ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||