BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 12:26 GMT 17:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد پہنچ گئی، تقسیم کا مسئلہ

زلزلے سے متاثرین
امدادی سپلائی کی تقسیم پر بہت تنقید کی جا رہی ہے

پاکستان میں گزشتہ سنیچر کو آنے والے شدید زلزلے کے پانچ دن بعد اب متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ تاہم اس سامان کی تقسیم پر اب شدید تنقید ہونا شروع ہو گئی ہے۔

شمالی علاقے بالاکوٹ اور مظفر آباد میں سپلائی کے ٹرکوں کو ایک بڑے ہجوم کا سامنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کی اطلاعات بھی ہیں۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امداد ان علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہی جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

بالاکوٹ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے لوگ وہاں فوج کی کارکردگی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں کیونکہ امدادی کاموں میں سب سے بڑی ایجنسی وہ ہی ہے۔ تاہم وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے فوج کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ راستے صاف ہونے کے ساتھ ہی امدادی کاموں تیزی لائی جائے گی۔

بین الاقوامی امداد میں بھی اب تیزی آ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق زلزلے سے تقریباً چالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے ہے اس وقت جن چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ان میں ہیٹر، کمبل، ادوایات اور خیمے شامل ہیں۔

زلزلے کے متاثرین
امداد کے طالب بچے

دریں اثناء صوبہ سرحد کے زلزلہ سے متاثر ہونے والے ہزارہ کے تین ضلعوں بٹ گرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد، کے دور دراز علاقوں میں بدھ کو سینکڑوں گاڑیاں امدادای سامان لے کر گئی ہیں لیکن کوہستان کے دور دراز کے علاقوں میں خطرناک راستوں کی وجہ سے امدادی کام شروع نہیں ہوسکا۔

بٹ گرام اور کوہستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح تک ان جگہوں پر ملبے تلے دبی انسانی لاشوں سے تعفن پھوٹ رہا تھا اور غذا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بھوک سے نڈھال تھے۔ شنکیاری، بٹل، جیوڑی، بھشام، تحصیل الائی اور بھوگڑ منگ زلزلہ سے شدید متاثر ہونے والے علاقے ہیں۔

ایبٹ آباد میں لائنز کلب کے صدر تراب خان جدون نے بتایا کہ ذرائع ابلاغ اور حکومت کی ساری توجہ کشمیر اور بالاکوٹ پر مرکوز رہی جس وجہ سے ہزارہ کے سینکڑوں دور دراز کے تباہ حال دیہات میں امداد نہیں دی جاسکی۔ صوبہ سرحد کے وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ زلزلہ سے صوبہ میں ہزارہ کے علاقہ کے پانچ سو دیہات متاثر ہوئے ہیں۔

زلزلے کے متاثرین
کئی جگہ لوٹ مار اور لڑائی کے واقعات کی بھی اطلاع ہے

ایک اور وجہ یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات سے متصل کوہستان ضلع کے اکثر علاقہ زمین کے کٹاؤ (لینڈ سلائڈ) کی وجہ سے پہنچ سے باہر ہیں جہاں عام امدادی گاڑیاں نہیں جاسکتیں۔ کوہستان کے علاقہ الائی زلزلہ سے بہت تباہی مچی ہے لیکن وہاں جانا بے حد مشکل ہے۔

ایبٹ آباد، راولپنڈی اور ملحق علاقوں میں کرائے کی مسافر گاڑیوں او ٹرکوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹرک مالکان نے کرایوں میں دو سو فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کئی جگہوں سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ امدادی سامان سے بھری گاڑیوں کو لوگوں نے زبردستی روک کر سامان چھین لیا۔

بھارت کی امداد
زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بھارت سے امدادی سامان لیے پہلا تیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ بھارت سے آنے والے کارگو طیارے کے سامان میں ادویات، کمبل، اور خیمے شامل ہیں۔ بھارت سے آنے والے طیارے پر لکھا ہے ’بھارت کے عوام کی طرف سے پاکستان کے عوام کے لیے‘۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق پاکستان نے پہلے امداد لینے میں تامل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ امدادی سامان کو پہلے بھارت کے زیرِانتظام کشمیر بھیجا جائے۔ لیکن بعد میں جب پاکستان کے وزیرِ اعظم نے پیشکش قبول کر لی تو انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ سن 2001 میں پاکستان نے بھی گجرات میں زلزلے سے متاثر افراد کے لیے امداد بھیجی تھی۔

66خوراک ہے خیمے نہیں
راولاکوٹ کےمتاثرین خیموں کے منتطر
66امداد کے منتظر
امدادی کاموں اور متاثرین کی تصاویر
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
66امداد کی لوٹ مار
امداد میں تاخیر کی وجہ سے متاثرین میں غصہ
66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد