BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھوک اور تعفن میں مدد کا انتظار

زلزلہ زدگان
کوہستان کے کئی علاقوں تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکا ہے

صوبہ سرحد کے زلزلہ سے متاثر ہونے والے ہزارہ کے تین ضلعوں بٹ گرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد، کے دور دراز علاقوں میں چار روز گزرنے کے بعد آج سینکڑوں گاڑیاں امدادای سامان لے کر گئی ہیں لیکن کوہستان کے دور دراز کے علاقوں میں خطرناک راستوں کی وجہ سے امدادی کام شروع نہیں ہوسکا۔

بٹ گرام اور کوہستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح تک ان جگہوں پر ملبہ تلے دبی انسانی لاشوں سے تعفن پھوٹ رہا تھا اور غذا نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بھوک سے نڈھال تھے۔ شنکیاری، بٹل، جیوڑی، بھشام، تحصیل الائی اور بھوگڑ منگ زلزلہ سے شدید متاثر ہونے والے علاقے ہیں۔

ایبٹ آباد میں لائنز کلب کے صدر تراب خان جدون نے بتایا کہ ذرائع ابلاغ اور حکومت کی ساری توجہ کشمیر اور بالاکوٹ پر مرکوز رہی جس وجہ سے ہزارہ کے سینکڑوں دور دراز کے تباہ حال دیہات میں امداد نہیں دی جاسکی۔ صوبہ سرحد کے وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ زلزلہ سے صوبہ میں ہزارہ کے علاقہ کے پانچ سو دیہات متاثر ہوئے ہیں۔


ایک اور وجہ یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات سے متصل کوہستان ضلع کے اکثر علاقہ زمین کے کٹاؤ (لینڈ سلائڈ) کی وجہ سے پہنچ سے باہر ہیں جہاں عام امدادی گاڑیاں نہیں جاسکتیں۔ کوہستان کے علاقہ الائی زلزلہ سے بہت تباہی مچی ہے لیکن وہاں جانا بے حد مشکل ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق تھا کوٹ کے پل کے بعد شروع ہونے والا علاقہ زمین کے بہاؤ کی وجہ سے رضا کارانہ نجی امدادی کاروائیوں کے لیے موزوں نہیں اور یہاں پر حکومت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی مدد پہنچا سکتی ہے۔ شمالی علاقہ جات اور کشمیر کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ امدادی کاروائیوں میں سینتیس ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔

مانسہرہ اور کوہستان کے درمیان واقع ضلع بٹ گرام میں بھی بٹل اور سلونہ جیسے مقامات زلزلہ سے تقریبا مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ بعض لوگ ان علاقوں سے پیدل چل کر شاہراہ ریشم تک آرہے ہیں اور وہاں سے گاڑیوں میں بیٹھ کر مانسہرہ کی ظفر گراؤنڈ میں بنائے گئے ریلیف کیمپ میں پہنچ رہے ہیں۔

ایبٹ آباد، راولپنڈی اور ملحق علاقوں میں کرائے کی مسافر گاڑیوں او ٹرکوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹرک مالکان نے کرایوں میں دو سو فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کئی جگہوں سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ امدادی سامان سے بھری گاڑیوں کو لوگوں نے زبردستی روک کر سامان چھین لیا۔

66’خون جم چکا تھا‘
ایک بھلا دئیے گئے قصبے کی ویڈیو اور تصاویر
66امداد کے منتظر
امدادی کاموں اور متاثرین کی تصاویر
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان: زلزلے کے بارے میں وڈیو رپورٹیں
66امداد کی لوٹ مار
امداد میں تاخیر کی وجہ سے متاثرین میں غصہ
66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد