شانگلہ میں خیموں کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالاکوٹ کے قریب شانگلہ کے مقام پر زلزلے کے ایک عینی شاہد کے مطابق متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہیں پہنچ رہی ہے۔ عینی شاہد سلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کی حالت بہت بری ہے اور غیرسرکاری تنظیموں نے خورد و نوش کی کچھ اشیاء تقسیم کی ہے، لیکن حکومتی ادارے وہاں نہیں پہنچ سکے ہیں۔ سلیمان نے بتایا کہ علاقے میں خیموں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا: 'بہت مشکل سے گزارہ ہورہا ہے، یہاں جس گاؤں میں میں ہوں اس کا نام چکتسر ہے، اس کے مضافات میں بہت سردی ہے اور تقریبا سارے گھر گر چکے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، بہت بری حالت ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ غیرسرکاری اداروں نے جو خورد و نوش کی اشیاء فراہم کی ہیں ان میں دال، چال، دودھ اور کمبل وغیرہ ہیں جن سے کام تو چل جاتا ہے لیکن بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں کھلے آسمانے کے نیچے سرد راتیں گزارنی پڑرہی ہیں۔ سلیمان نے کہا: 'اس سے گزارہ ہوجاتا ہے لیکن سب سے بڑی اہمیت کی جو چیز ہے وہ خیمہ ہے، خیمہ نہ ہو تو لوگ کیسے گزارہ کریں گے۔' انہوں نے بتایا کہ یہاں پر کوئی طبی امداد نہیں پہنچی ہے لیکن 'جو لوگ مرے تھے، انہیں دفنا دیا گیا ہے اور جو زخمی ہوئے تھے ان کی مقامی طور پر مرہم پٹی ہوگئی ہے۔' سلیمان نے کہا کہ یہاں طبی امداد کی فوری ضرورت نہیں لیکن جن کے گھر گرگئے ہیں انہیں چھت کی ضرورت ہے، خیمے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ ان افواہوں کی بارے میں اطلاع فراہم کرکے ان کی مدد کرسکتے ہیں کہ کیا کوئی زلزلہ پھر سے آنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز زلزلے کی افواہ تھی جس کی وجہ سے لوگ پریشان تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||