BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 October, 2005, 14:57 GMT 19:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بٹل میں ہر طرف موت، ہر روح زخمی

لوگ اب تک اپنے پیاروں کی لاشیں نکال رہے ہیں
انور زئی ولد رحمت اللہ کی چار سال کی بیٹی عصر کھلونا لے کر پڑوس میں کھیلنے گئی تھی۔ آج سات دن سے انور زئی ملبہ کے ڈھیر سے عصر کو ڈھونڈ رہا ہے۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلہ کے بعد وہ صرف اپنی بیوی اور ایک پانچ ماہ کی بیٹی کو ملبہ سے نکال سکا۔ اب وہ قبرستان میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہ رہا ہے۔

انور مئی کی چار سالہ بیٹی ان سینکڑوں بچوں میں سے ہے جو آٹھ اکتوبر کے زلزلہ میں بٹل اور اس کے گرد ونواح میں اپنی جان ہاتھ سے دھو بیٹھے۔ بٹل کے اسکول کے گرنے سے درجنوں بچوں کی اموات ہوئیں۔

بٹل سے پچیس کلومیٹر دور جبڑ وادی کے مشتاق حسین نے کہا کہ ان کے گاؤں میں زیادہ تر بچے فوت ہوئے گھروں میں بھی اور اسکولوں میں بھی۔

مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر دور شمال میں شاہراہ ریشم کے اوپر واقع بٹل قصبہ زلزلہ سے تقریبا مکمل مسمار ہوچکا ہے۔ صرف چند پکے مکان بچے ہیں لیکن ان میں بھی دڑاڑیں پڑ گئی ہیں۔ یہ شہر کھنڈر کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ا ردگرد کے دیہات بھی شدید تباہی سے دوچار ہوئے ہیں۔

بٹل اسکول کے استاد غفران شاہ اسکول میں پڑھا رہے تھے جب انہیں زلزلہ کے جھٹکا لگا اور ملبہ گرنے سے ان کا ایک بازو زخمی ہوگیا۔ وہ اپنی بچیوں کے اسکول گئے تو انہیں ملبے سے اپنی ایک بچی کی لاش ملی۔ دوسری بچی کی لاش انہوں نے ان کے بقول ہسپتال سے وصول کی۔ وہ اسکول سے ایک کلومیٹر دور گل ڈیری گاؤں میں اپنے گھر پہنچے تو ان کی بیوی اللہ کو پیاری ہوچکیں تھیں اور انکی ساس زخمی تھیں۔ وہ اب ایک خیمہ میں رہتے ہیں اور خیمہ لگا کر اسکول دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

بٹل کے ایک کم عمر لڑکے شعیب نے کہا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ دوسرے بچوں کے ساتھ باہر بھاگے جبکہ تقریبا اسی بچے اسکول کے ملبے میں دب گئے۔ شعیب گھر پہنچے تو ان کی دو پھوپھیاں اور ایک دادی کا اتہ پتہ نہیں تھا۔ شعیب نے انہیں تلاش کیا تو وہ مر گئیں تھیں۔ شعیب کی امی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی جنہیں اب اسلام آباد کے سی ایم ایچ ہسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔ شعیب اب ایک خیمہ میں رہ رہا ہے۔

بٹل شہر کے پرستان خان حوالدار ریٹائرڈ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بہن کی لاش چھ روز بعد ملبہ سے ڈھونڈ کر نکالی۔ انہیں شکوہ تھا کہ ان کی بہن کو تلاش کرنے میں ان کی حکومت یا کسی ادارہ نے کوئی مدد نہیں کی۔ پرستان کہتے ہیں انہوں نے زلزلہ کے پہلے روز کہا تھا ہمیں کھجور نہیں چاہیے، ہمیں خیمہ دے دو، ہماری لاش نکال دو۔


بٹل کے رہائشی اور اسکول کے ایک اور استاد بشیر احمد خان کا کہنا تھا کہ ان کے اسکول میں چالیس بچے موقع پر جان دے گئے اور دو سو بچے شدید زخمی ہوئے، کسی کی ٹانگ نہیں تھی اور کسی کا بازو نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک استاد ملبہ تلے دب کر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور استاد صدیق اللہ نے پہلے اپنے بچوں کو کلاس سے نکالا اور جب وہ خود نکلنے لگے تو ملبے کے نیچے آ کر فوت ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بچہ کی لاش اسکول سے لوگوں نے چھ دن بعد جمعرات کے روز نکالی۔

بشیر احمد خان کا کہنا تھا کہ فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بٹل کا چکر لگا کر چلا گیا لیکن کسی نے میتیں نکالنے میں مدد نہیں کی نہ کوئی خیمہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کو اتنی سردی تھی کہ وہ اپنے خیمہ میں سو نہیں سکے اور سردی ان کی ہڈیوں تک سرایت کرگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بٹ میں تین مہینے برف باری ہوتی ہے اور لوگوں کو خیمے، کمبل او رگرم کپڑے چاہئیں۔

بٹل کے اڑوس پڑوس میں پہاڑوں کے اوپر کے دیہات کے لوگوں کی حالت زیادہ خستہ لگی کیونکہ ان کے پاس ابھی خیمے بھی نہیں پہنچے۔ بٹل سے پچیس کلومیٹر دور جبڑ وادی سے آئے ایک نوجوان مشتاق حسین نے کہا کہ جبڑ وادی کی بڑی سڑک پہاڑی گرنے سے بند ہوگئی ہے۔ مشتاق کا کہنا تھا کہ جبڑ وادی میں لوگ چھ روز سے لاشیں نکالنے اور انہیں دفن کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے مکان مسمار ہوگئے اور اب تک خیمے نہیں ملے۔

مشتاق کا کہنا تھا کہ یہ مکئی کا موسم ہے اور مکانوں کے گرنے سے لکڑی وافر دستیاب ہے۔ لوگ لکڑیاں جلا کر چھلیاں بھون کر گزارہ کررہے ہیں اسلیے کھانا مسئلہ نہیں، صرف تمبو (خیمہ) چاہیے۔

بٹل سے چار کلومیٹر دور کھن گاؤں سے آئے محمد یعقوب کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں میں تیس لوگ فوت ہوئے۔ کسی کی لاش تین دن بعد ملی اور کسی کی چار دن بعد۔ جمعرات کو پہلا کام یہ ہوا کہ فوج نے ان کے گاؤں کی سڑک کھول دی جو سیل زمین (لینڈ سلائڈ) کی وجہ سے بند ہوگئی تھی۔

بٹل سے آتے ہوئے فوج کے درجنوں ٹرک اور جیپیں اس طرف جاتی نظر آئیں جس سے یوں لگتا ہے کہ بالآخر سات روز بعد فوج بٹل کی مدد کے لیے حرکت میں آگئی ہے۔

66بٹل میں تباہی
بٹل کےقصبے میں زلزلے کی تباہ کاریاں

زلزلے سے متاثرہ زندگی کی جھلکیاں
66زلزلہ، سیاست، سفارت
شاید بھارت بھی پاکستانی امداد قبول نہ کرتا
66کوٹ گلہ مکمل تباہ
پہاڑوں پر واقع دیہات کے لوگ امداد کے منتظر
66مانسہرہ سے جبوڑی
سڑک سےدوراُوپر پہاڑوں پر لوگ بھوکے مررہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد