نیلم، جہلم تک رسائی نہیں ہوئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جمعرات کو بتایا گیا ہے کہ ابھی تک پندرہ سے بیس فی صد زلزلے سے متاثرہ علاقے ایسے ہیں جہاں امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہوسکی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد پچیس ہزار ہے جو بڑھ بھی سکتی ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں وادی نیلم اور وادی جہلم میں ہوئی ہلاکتیں اس تعداد میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج یا کل نیلم اور وادی جہلم تک رسائی حاصل کر لی جائے گی۔ شیخ رشید نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں
بہت بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی بھی کر رہے ہیں۔ کابینہ نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید کے مطابق ان خیمہ بستیوں میں بجلی اور پانی سے لےکر مواصلات کی سہولیات بھی ہوں گی۔ کابینہ کو وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق نے تفصیلی بریفنگ دی۔ شیخ رشید نے کہاکہ تمام تباہ شدہ شہروں کو دوبارہ سے آباد کیا جائے گا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ دو ارب روپے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو دے دیے گئے ہیں جبکہ ایک ارب روپے صوبہ سرحد کی حکومت کو دیے گئے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ والدین سے بچھڑ جانے والے بچوں کو حکومتی اداروں کی نگرانی میں ان کے والدین سے واپس ملوایا جائے گا۔ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین اپنی ایک دن کی تنخواہ جبکہ سترہ گریڈ سے اوپر کے افسران اپنی تین دن کی تنخواہ متاثرین کی امداد میں دیں گے۔ اس کے علاوہ تمام وزراء اور ارکان پارلیمنٹ بھی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ صدر کے ریلیف فنڈ میں دیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بلڈنگ رولز میں ترمیم کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ زلزلے کی صورت میں عمارتیں زمین بوس نہ ہوں۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ لوگ حکومت پر اعتماد کرنے کے بجائے خود امداد لےکر متاثرہ علاقوں تک جانا چاہتے ہیں تو شیخ رشید نے کہا کہ ساری امداد کو مرکزی نظام میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ ساری امداد ایک ہی جگہ نہ چلی جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی تمام سرکاری عمارتیں گر چکی ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کشمیر میں حکومت کو چلانے کے لیے مرکز سے سول ملازمین بھیجے جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||