BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امدادسےلدے ٹرکوں سےسڑکیں بند

امدادی سامان سے لدے ٹرک
پہاڑی راستے بھاری ٹریفک کے لیے موضوع نہیں

زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے پاکستان بھر سے، خاص طور پر نجی شعبے سے، بڑے پیمانے پر بھیجی جانے والی امداد نے کشمیر جانے والے راستے بند کر دیے ہیں۔

باغ سے مری جانے والی سڑک پر زخمیوں سے بھری درجنوں ایمبولنسیں کبھی ختم نہ ہونے والے ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھیں۔

پاکستانی فوج نے باغ میں طبی امداد کا ایک مرکز قائم کیا ہے لیکن وہاں ہڈیوں کو جوڑنے کے آلات اور ادویات کی شدید کمی ہے جو وہاں موجود ڈاکٹروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ضرورت ہے۔

توقعات
 کشمیر انتظامیہ پر کوئی تنقید نہیں کر رہا جو دیگر تنظیموں کی طرح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تمام نگایں پاکستان اور پاکستانی فوج پر ہیں
سینکڑوں متاثرین اپنے زخمی رشتہ دار جن میں زیادہ تر بچے ہیں لے کر مری کے راستے پاکستان جا رہے تھے۔ انہیں راستے میں سڑکیں بند ملیں جہاں پاکستان سے آنے والے امدادی سامان سے لدے ہوئے ٹرک کھڑے تھے۔

بسمل کوٹ کے حضور علی دس گھنٹے سے اپنی شدید زخمی تین سالہ بیٹی کو اٹھائے ہوئے پیدل چل کر باغ پہنچے تھے۔

حضور علی نے مایوسی سے سڑک پر پھنسی ہوئی ٹریفک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال تھا کہ باغ میں مجھے ٹرانسپورٹ مل جائے گی جس پر میں اپنی بیٹی کو راولپنڈی آرمی ہسپتال لے جا سکوں گا‘۔

باغ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پاکستانیوں کی اس علاقے کے راستوں کے بارے میں کم علمی کی وجہ سے پیدا ہوا۔

پہاڑی راستے ہلکی گاڑیوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس بات کو نہ جانتے ہوئے پاکستان میں لوگوں نے امدادی سامان پہنچانے کے لیے بھاری ٹرک کرائے پر لیے ہیں جنہوں نے راستے بند کر دیئے ہیں۔

بعض جگہوں پر اونچائی کی وجہ سے وزن سے لدے ہوئے ٹرکوں کو روک کر ان سے سامان اتارنا پڑتا ہے اور اس عمل میں بھی سڑک پر ٹریفک رک جاتی ہے۔

مشکلات
 روسی ساخت کے یہ ہیلی کاپٹر عام طور پر رات کے وقت استعمال نہیں کیے جاتے لیکن صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ حفاظتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان ہیلی کاپٹروں کو چوبیس گھنٹے استعمال کیا جائے۔
فوجی حکام
بھاری ٹریفک کے ساتھ ساتھ موسم کی خرابی کی وجہ سے بھی پہاڑی راستے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جو امدادی سامان پہنچ بھی رہا وہ مظفر آباد، راولاکوٹ اور باغ سے آگے نہیں جا پا رہا۔

امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ختم کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستانی فوج دو تین روز کے اندر راستے بحال کرنے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے صرف ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر سکتی ہے۔

راولپنڈی میں اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو فوج کے پاس صرف انیس ہیلی کاپٹر تھے جو سیاچن پر موسم سرما کے لیے سامان پہنچانے میں مصروف تھے۔

فوجی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آخری مہینہ ہے جن موسم خراب ہونے سے پہلے سیاچن پر سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی ساخت کے یہ ہیلی کاپٹر عام طور پر رات کے وقت پرواز نہیں استعمال کیے جاتے لیکن صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ حفاظتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان ہیلی کاپٹروں کو چوبیس گھنٹے استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے دس چنوک ہیلی کاپٹروں کے ملنے کے باوجود امدادی کارروائیاں ضرورت سے بہت کم ہیں۔

غلطیاں
 فوج کو کشمیر داخلے سے پہلے ہی راستے پر امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز قائم کرنے چاہیے تھے اور اس سامان کو وہ خود ہی تقسیم کرتے
دیہاتی
فوج کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو خاص طور پر ڈاکٹروں کی وجہ سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں جو بڑی تعداد میں کشمیر جانا چاہ رہے ہیں۔

فوج کے ڈپٹی سرجن جنرل فرخ سیر کا، جو طبی امداد کا انتظام کر رہے ہیں، کہنا ہے کہ فوج پر ان ڈاکٹروں کو سہولیات فراہم کرنے کا شدید دباؤ ہے جو متاثرہ علاقے میں جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں سے زیادہ ہڈیاں جوڑنے کے آلات اور ادویات کی ضرورت ہے۔

دیہاتی لوگ امدادی کاروائیوں میں سُستی پر سخت تنقید کر رہے ہیں اور اسے ’دوسرا زلزلہ‘ کہہ رہے ہیں۔

کشمیر انتظامیہ پر کوئی تنقید نہیں کر رہا جو خود دیگر تنظیموں کی طرح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

تمام نگاہیں پاکستان اور پاکستانی فوج پر ہیں۔

چمن کوٹ کے پہاڑی گاؤں سے اتر کر باغ آنے والے ایک شخص نے کہا کہ نجی ٹرکوں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو کشمیر داخلے سے پہلے ہی راستے پر امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز قائم کرنے چاہیے تھے اور اس سامان کو وہ خود ہی تقسیم کرتے۔
اس موقع پر وہاں موجود لوگوں نے چمن کوٹ کے اس رہائشی کی ہاں میں ہاں ملائی۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ دو ترجیحات ہونی چاہیں تھیں۔ ایک تو شاہراؤں پر نجی گاڑیوں کے داخلے کو روکنا اور دوسرا مواصلاتی رابطے بحال رکھنا۔

طبی سہولیات
 فوج پر ان ڈاکٹروں کو آلات فراہم کرنے کا شدید دباؤ ہے جو متاثرہ علاقے میں جانا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹروں سے زیادہ ہڈیاں جوڑنے کے آلات اور ادویات کی ضرورت ہے۔
ڈپٹی سرجن جنرل فرخ سیر
گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ ٹیلی فون کی سولت بحال ہونے سے افواہوں کو روکنے میں مدد مل سکتی تھی۔ اس وقت عام طور پر سنا جاتا ہے کہ امداد حاصل کرنے کے لیے کوئی بریگیڈیر آپ کا واقف ہونا چاہیے اور دوسرا مختلف دیہات کہ صفحہ ہستی سے مٹ جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

میں نے ان لوگوں سے دھیر کوٹ باغ روڈ پر ایسے دیہات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رنگلا اور چمن کوٹ کے نام لیے۔ مجھے راستوں کے بند ہونے کے باعث اس سڑک پر رنگلا اور چمن کوٹ سمیت سترہ دیہات سے گزرنا پڑا تھا۔

رنگلا کی کل آبادی پچاسی تھی اور وہاں سات لوگ ہلاک ہوئے تھے اور چمن کوٹ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

66لکڑی، سیمنٹ کا فرق
مظفر آباد سے باغ تک عامر خان نے کیا دیکھا
66بیرونی امداد
بیرونی امداد پاکستان پہنچ رہی ہے۔ تصاویر
66امداد کی لوٹ مار
امداد میں تاخیر کی وجہ سے متاثرین میں غصہ
66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد