امدادسےلدے ٹرکوں سےسڑکیں بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے پاکستان بھر سے، خاص طور پر نجی شعبے سے، بڑے پیمانے پر بھیجی جانے والی امداد نے کشمیر جانے والے راستے بند کر دیے ہیں۔ باغ سے مری جانے والی سڑک پر زخمیوں سے بھری درجنوں ایمبولنسیں کبھی ختم نہ ہونے والے ٹریفک میں پھنسی ہوئی تھیں۔ پاکستانی فوج نے باغ میں طبی امداد کا ایک مرکز قائم کیا ہے لیکن وہاں ہڈیوں کو جوڑنے کے آلات اور ادویات کی شدید کمی ہے جو وہاں موجود ڈاکٹروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ضرورت ہے۔
بسمل کوٹ کے حضور علی دس گھنٹے سے اپنی شدید زخمی تین سالہ بیٹی کو اٹھائے ہوئے پیدل چل کر باغ پہنچے تھے۔ حضور علی نے مایوسی سے سڑک پر پھنسی ہوئی ٹریفک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال تھا کہ باغ میں مجھے ٹرانسپورٹ مل جائے گی جس پر میں اپنی بیٹی کو راولپنڈی آرمی ہسپتال لے جا سکوں گا‘۔ باغ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پاکستانیوں کی اس علاقے کے راستوں کے بارے میں کم علمی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ پہاڑی راستے ہلکی گاڑیوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس بات کو نہ جانتے ہوئے پاکستان میں لوگوں نے امدادی سامان پہنچانے کے لیے بھاری ٹرک کرائے پر لیے ہیں جنہوں نے راستے بند کر دیئے ہیں۔ بعض جگہوں پر اونچائی کی وجہ سے وزن سے لدے ہوئے ٹرکوں کو روک کر ان سے سامان اتارنا پڑتا ہے اور اس عمل میں بھی سڑک پر ٹریفک رک جاتی ہے۔
امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ختم کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستانی فوج دو تین روز کے اندر راستے بحال کرنے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے صرف ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر سکتی ہے۔ راولپنڈی میں اعلیٰ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جب زلزلہ آیا تو فوج کے پاس صرف انیس ہیلی کاپٹر تھے جو سیاچن پر موسم سرما کے لیے سامان پہنچانے میں مصروف تھے۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آخری مہینہ ہے جن موسم خراب ہونے سے پہلے سیاچن پر سامان پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی ساخت کے یہ ہیلی کاپٹر عام طور پر رات کے وقت پرواز نہیں استعمال کیے جاتے لیکن صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ حفاظتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان ہیلی کاپٹروں کو چوبیس گھنٹے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے دس چنوک ہیلی کاپٹروں کے ملنے کے باوجود امدادی کارروائیاں ضرورت سے بہت کم ہیں۔
فوج کے ڈپٹی سرجن جنرل فرخ سیر کا، جو طبی امداد کا انتظام کر رہے ہیں، کہنا ہے کہ فوج پر ان ڈاکٹروں کو سہولیات فراہم کرنے کا شدید دباؤ ہے جو متاثرہ علاقے میں جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں سے زیادہ ہڈیاں جوڑنے کے آلات اور ادویات کی ضرورت ہے۔ دیہاتی لوگ امدادی کاروائیوں میں سُستی پر سخت تنقید کر رہے ہیں اور اسے ’دوسرا زلزلہ‘ کہہ رہے ہیں۔ کشمیر انتظامیہ پر کوئی تنقید نہیں کر رہا جو خود دیگر تنظیموں کی طرح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تمام نگاہیں پاکستان اور پاکستانی فوج پر ہیں۔ چمن کوٹ کے پہاڑی گاؤں سے اتر کر باغ آنے والے ایک شخص نے کہا کہ نجی ٹرکوں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو کشمیر داخلے سے پہلے ہی راستے پر امدادی سامان جمع کرنے کے مرکز قائم کرنے چاہیے تھے اور اس سامان کو وہ خود ہی تقسیم کرتے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ دو ترجیحات ہونی چاہیں تھیں۔ ایک تو شاہراؤں پر نجی گاڑیوں کے داخلے کو روکنا اور دوسرا مواصلاتی رابطے بحال رکھنا۔
میں نے ان لوگوں سے دھیر کوٹ باغ روڈ پر ایسے دیہات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رنگلا اور چمن کوٹ کے نام لیے۔ مجھے راستوں کے بند ہونے کے باعث اس سڑک پر رنگلا اور چمن کوٹ سمیت سترہ دیہات سے گزرنا پڑا تھا۔ رنگلا کی کل آبادی پچاسی تھی اور وہاں سات لوگ ہلاک ہوئے تھے اور چمن کوٹ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||