ایک ایک قبر میں چار چار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار عدنان عادل نے مانسہرہ کے گرد نواح میں دور دراز علاقوں کا دورہ کر کے شنکیاری سے یہ رپورٹ بھیجی ہے۔ 'میں مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر دور جبوڑی کے مقام پر گیا تھا اور راستے میں ڈاڈر، بھوگڑمنگ کے علاقے دیکھے جو جزوی طور پر زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ 'میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ ان کے علاقے کا کیا حال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشیں اب بھی مکانوں کی چھتوں کے نیچے آئی ہوئی ہیں۔ ان کو نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ان کو نہیں نکال سکتے۔ 'پنجیل سے آنے والے احمد شاہ کا کہنا ہے کہ ادھر کوئی مکان نہیں بچا اور سو سو روپے کا پلاسٹک لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں کچھ امداد نہیں ملی۔ ہم پہاڑوں سے پیدل چل کے آئے ہیں اور وہاں تو دکانوں پر بھی کوئی چیز نہیں ہے کہ خرید کر ہی لے لیں۔ ہم نے اپنے خاندانوں اور رشتہ دار والوں کو چار چار کر کے ایک ایک قبر میں ڈال دیا ہے لیکن ابھی بھی بہت سے ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ 'لوگ مکانوں کے نیچے پڑے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ بھوکے پڑے ہیں۔ بچے رو رہے ہیں۔ ان کی کوئی مدد بھی نہیں کر سکتا۔ 'جبڑ گلی کے ایک شخص عیسی خان نے بتایا کہ کہ وہاں لوگ ویسے ہی مرے پڑے ہیں اور ان کی لاشوں میں سے اب بو آنا شروع ہو گئی ہے۔ نہ کوئی اٹھانے والا ہے، نہ کوئی امدادی ٹیم ہے اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر ہے۔ وہاں صرف ہیلی کاپٹر ہی جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ ہیلی کاپٹر آیا تھا اور دس بارہ آدمیوں کو لے کر چلا گیا۔ اب وہاں نہ کھانے کو کچھ ہے اور نہ پینے کو۔ بس بو ہی بو ہے۔ 'جبڑی کے مقام پر سڑک کے ساتھ ساتھ کچھ عمارتیں متاثر ہوئی لگتی ہیں اور بہت زیادہ امدادی سامان لے کر ٹرک اور گاڑیاں اس طرف جا رہی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ لوگ زلزلے کو بھول گئے ہیں اور انہیں صرف امدادی سامان یاد رہ گیا ہے۔ لوگ سامان لینے کے لیے قطار در قطار سامان لینے کے لیے کھڑے نظر آتے ہیں۔ جو بستیاں پہاڑوں کے اندر ہیں وہاں تک امدادی سامان نہیں پہنچ رہا اور صرف سڑکوں تک محدود رہ گیا ہے۔ پہاڑوں میں کئی جگہ پوری پوری بستیاں مٹ گئی ہیں اور وہاں کے لوگ اب پانچ چھ دن کی مسافت پیدل طے کر کے سڑک پہ آئے ہیں۔ لینڈ سلائیڈ اور زلزلے کی وجہ سے وہاں پر کوئی سڑک نہیں بچی اس لیے وہاں پر جانا تقریباً ناممکن ہے۔ وہاں صرف ہیلی کاپٹر جا ستا ہے۔ جو لوگ وہاں سے آئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ وہاں پر ہیلی کاپٹر سے کچھ خیمے اور امدادی سامان پھینکا ضرور گیا ہے لیکن وہ ضرورت سے بہت کم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||