BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 October, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افراتفری، بےبسی، بے چارگی
امدادی سامان کی غیر مربوط ترسیل پر عوام میں غم و غصہ

پاکستان کی تاریخ کے بدترین زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچ جانے کی امیدیں معدوم ہوجانے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم کو منظم کرنے میں حکومت کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیوں کے علاوہ رضاکاروں کی بڑی تعداد انفرادی سطح پر امدادی سامان سے لدے ہوئے ٹرکوں کے ساتھ گزشتہ پانچ دنوں سے مسلسل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صویہ سرحد کے متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں جن کی وجہ سے ان علاقوں میں مکمل ابتری اور افراتفری کا عالم ہے۔

صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں کے دور دارز دیہات میں زلزلہ سے بچ جانے والے افراد خوارک نہ ہونے کے باعث گھاس کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بیشتر متاثرہ علاقوں میں جہاں امداد پہنچی ہے، لوگوں کو شکایت ہے کہ انہیں مطلوبہ سامان مہیا نہیں کیا جا رہا۔ جہاں ملبہ ہٹانے کے اوزاروں اور مشینری کی ضرورت ہے وہاں کمبلوں اور خوراک کی اشیاء سے لدے ٹرک پہنچ رہے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں خیموں کی اشد ضرورت ہے اور پانچ دن گزر جانے کے باوجود سخت سردی میں لوگ کھلے آسمان تلے راتیں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے اعجاز مہر نے مانسہرہ کے قریب شنکیاری کے علاقے سے اطلاع دی ہے کہ وہاں پر امدادی کارکن راشن سے لدے ہوئے ٹرکوں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن متاثرہ افراد ٹینٹوں اور خیموں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

زلزلے سے بچ جانے والے افراد ہلاک ہونے والے اپنے پیاروں کے غم میں نڈھال اب تک مطلوبہ امداد کے انتظار میں بے چارگی اور بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

امدادی سامان کی غیر منظم اور غیر مربوط ترسیل کی وجہ سے بھی لوگ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مظفرآباد میں چھ دن گزر جانے کے باوجود ملبہ ہٹانے کی بڑی مشینری کہیں دکھائی نہیں دیتی اور ملبہ ہٹانے کا کام بیلچوں اور پھاوڑوں سے ہی کیا جا رہا ہے۔

مظفرآباد سے بی بی سی کی نامہ نگار دومیتھا لوتھرا نے بتایا کہ شہر میں صرف ایک کرین نیشنل بینک کی عمارت کا ملبہ ہٹاتے ہوئے دکھائی دی۔ شہر میں بے شمار جگہوں پر رہائشی عمارتوں کے نیچے لاشیں دبی ہوئی ہیں اور لوگ پھاڑوں، بیلچوں پر ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں۔

بہت سے لوگ بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں مسلسل کئی دنوں تک ملبے تلے دبے اپنے عزیزو اقارب کی مدد کی پکاریں سنتے رہے لیکن کوئی اوزر اور مشینری نہ ہونے کے باعث وہ ان کی مدد نہ کر سکے۔ ان کے سامنے یہ پکاریں رفتہ رفتہ دم توڑ گئیں اور وہ حسرت اور یاس کی تصویر بنے رہے۔

مظفر آباد تک بھی حکومت ملبہ ہٹانے کی مشینری بھیجنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ مظفرآباد میں ایک شہری نے کہا کہ ان لوگوں کو نشینل بینک کی عمارت سے پیسہ نکالنے کی پڑی ہوئی ہے اور میری بہن جو اس بینک میں ملازم تھی اس کی لاش بینک سے کچھ فاصلے پر اپنے گھر کے ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔

سرکاری سطح پر ملنے والی امداد کی بڑی مقدار تو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پہنچائی جا رہی ہے لیکن ملک کے مخلتف علاقوں سے لوگوں انفرادی سطح پر زمینی راستوں سے امدادی سامان لے کر ان علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ان علاقوں کو جانے والی تمام شاہراہوں پر امدادی سامان سے لدے ہوئے ٹرکوں اور گاڑیوں کے قافلوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

ناگہانی آفت کی صورت میں متاثرہ افراد کی بحالی اور امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم کے لیے قومی سطح پر کسی مربوط نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے غیر سرکاری اداروں اور عوام کی بڑی تعداد خود امدادی سامان کی تقسیم کی کوشش میں ہیں۔

اس صورت حال کے پیش نظر بدھ کو صدر پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے ایک نیا ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

زلزلے کو چھ دن گزر جانے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے فوری طور پر ان علاقوں میں پہنچے والی بین الاقوامی 'ریسکیو اور سرچ ٹیمیں' اب واپسی اختیار کر رہی ہیں۔

امدادی سامان اور اشیاء خردو نوش بڑی تعداد میں ان علاقوں تک پہنچ جانے کے باوجود بہت سے دیہات ایسے ہیں جہاں اب تک امدادی سامان نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں کے دور دارز دیہات میں زلزلہ سے بچ جانے والے افراد خوارک نہ ہونے کے باعث گھاس کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ادھر جنوبی مشرقی ایشیا میں آنے والے اس زلزلے کے رد عمل میں دی جانے والی بین الاقوامی امداد کو مربوط بنانے کے اقوام متحدہ کے ذمہ دار اہلکار ژاں ایگلین نے مظفرآباد کے دورے کے بعد مزید ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مؤثر اور مربوط امدادی نظام چلانے کے لیے موجودہ تعداد سے تین گنا زیادہ ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔

66زلزلہ، بارش، سردی
قدرت کی طرف سے متاثرین کا امتحان جاری ہے
66خوراک ہے خیمے نہیں
راولاکوٹ کےمتاثرین خیموں کے منتطر
66کچھ سالم نظر نہیں آتا
سنگھولہ کے ایک متاثرہ شخص کی کہانی
66اور کتنی دیر۔۔۔۔
کشمیر میں امداد کا انتظار جاری
66وڈیو رپورٹیں
پاکستان میں زلزلے کی وڈیو رپورٹیں دیکھیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد