زلزلہ متاثرین کے لیےعارضی کلینک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تاریخ کے بد ترین سانحے کے پانچ دن گزرنے کے بعد بھی زلزلے کے متاثر ہزاروں افراد ابھی تک طبی امداد کے منتظر ہیں۔ بالا کوٹ جو اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہاں لوگوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پاکستان آرمی کی جانب سے ایک عارضی کلینک قائم کیا گیا ہے لیکن یہ لوگوں کے مطالبے کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ یہ عارضی کلینک ایک کھلے میدان میں ہیلی کاپٹر پیڈ کے قریب قائم ہے۔ جب ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں تو ان کے اڑنے سے اٹھنے والی گرد کلینک کے بستروں پر پڑتی ہے۔ اس عارضی کلینک میں ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ میڈیکل کے طالب علم بھی متاثرین کو امداد بہم پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ان میں سے ایک طالب علم نے بتایا کہ ان مریضوں میں سے اکثریت کے کئی فریکچر آئے ہیں ہمیں اس وقت ادویات، انجکشنز، اینٹی بائیوٹکس اور درد کش ادویات کی ضرورت ہے۔ طبی سہولیات کے انچارج پاک فوج کے ڈاکٹر محمد یونس شاہ نے بتایا کہ ہم اس کلینک میں تمام متاثرہ علاقوں کے ہر قسم کے مریضوں کو طبی سہولت پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں مریضوں کو فریکچرز اور زخم آئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ وہ کتنے مریض ایک دن میں دیکھ رہے ہیں تو ڈاکٹر محمد نے کہا کہ شاید ایک ہزار یا اس سے بھی زائد۔
میں نے دیکھا کہ کلینک کے باہر بالا کوٹ اور دوردراز سے آئےمریض ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کے منتطر ہیں۔ جب ان ڈاکٹروں سے پوچھا کے ان دنوں کام کرنا کتنا مشکل ہے تو انہوں نے بتایا کہ ان دنوں کام بہت مشکل ہے۔ ہمارے بہت سے ساتھی تھک چکے ہیں لیکن اس صورت حال میں ہم ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لوگ اس کلینک میں علاج کے لیے بالا کوٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے آرہے ہیں اور دوران سفر انہیں راستہ ہموار نہ ہونے کی وجہ سے مزید زخم آرہے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کے پاس آنے والے مریضوں میں کسی کے چہرے پر زخم ہیں، کسی کی کہنی ٹوٹی ہوئی ہے تو کسی کے جسم پر گہرے زخم آئے ہیں۔ مریضوں کی لمبی قطاریں ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||