BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 21:55 GMT 02:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: کفن فروشوں کی بلیک مارکیٹنگ

امداد
کراچی میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے لوگوں نے جگہ جگہ کیمپ لگائے ہوئے ہیں
کشمیر، سرحد اور شمالی علاقاجات میں زلزلے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد کراچی سے امدادی سامان میں کفن کا کپڑا بھی بھیجا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کفن فروشوں کو بلیک مارکیٹنگ کا موقع مل گیا ہے اور وہ اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

کفن کے لیے عام استعمال میں آنے والا کپڑا لٹھا کہلاتا ہے۔ جو عام حالات میں مارکیٹ میں اٹھارہ سے پچیس روپے فی میٹر مل جاتا ہے۔ ایک عام انسان کے کفن لیے آٹھ میٹر کپڑا درکار ہوتا ہے۔

زلزلے میں لوگوں کی ہلاکتوں کے بعد جہاں کراچی میں سے دیگر اشیا متاثرین کے لیے بھیجی گئیں وہاں لٹھا بھی بھیجا جا رہا ہے۔ جس وجہ سے اس کی طلب میں اضافہ ہوگیا۔

کراچی کے علاقے صدر میں کپڑا بیچنے والے ایک دکاندار سیف الدین کے مطابق مارکیٹ سے لٹھا منافع خوروں نے گم کردیا ہے۔ اس کے پاس بھی صرف چار تھان موجود ہیں۔

جب ان سے کہا گیا کہ یہ کپڑا زلزلے کے متاثرین کے پاس بھیجنا ہے کتنے روپے میٹر دوگے تو اس کا کہنا تھا کہ یہ کپڑا قمیض شلوار بنانے میں استعمال ہوتا ہے ویسے تو چالیس یا پینتالیس میں بیچتے ہیں مگر وہ اس نیک مقصد کے لیے پینتیس روپے میٹر میں فروخت کرسکتا ہے۔

ایک دوسرے دکاندار محمد رفیق نے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مارکیٹ میں لٹھا موجود ہی نہیں ہے۔ اس کے پاس بھی چند تھان موجود ہیں۔ جب اس سے کہا گیا کہ اگر بڑی مقدار میں لٹھا چاہیےِ تو اس نے حامی بھرتے ہوئے کہا کہ مل جائیگا مگر تیس روپے میٹر ملے گا۔

جب اس دکاندار کو کہا گیا کہ ابھی آپ نے کہا تھا کہ لٹھا موجود نہیں ہو تو اس نے بتایا کہ ہم نے گدام میں رکھا ہوا ہے مگر منافع نہیں لے رہے۔

ایک برزگ دکاندار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہول سیل کی مارکیٹ میں ہی لٹھا موجود نہیں ہے۔ لوگ پہننے کے لیے استعمال ہونے والی کاٹن اس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لٹھا ہول سیل مارکیٹ میں ہفتہ قبل تک اٹھارہ روپے سے لیکر پچیس روپے تک مل رہا تھا۔ مگر ابھی اس کے ریٹ بڑھا دیےگئے ہیں۔

کراچی میں لٹھے کی ہول سیل مارکیٹ کھارادر اور بولٹن مارکیٹ میں ہے۔ جہاں ایک سیٹھ نے بتایا کہ لٹھا مارکیٹ میں ہی موجود نہیں ہے کیونکہ فیکٹری سے ہی نہیں آرہا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ وہ زیادہ منافع نہیں لے رہے ہیں ان کو خود کو مہنگا مل رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد