سرحد کے لیے مزید امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کو قومی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی پہلی دفعہ شریک ہوئے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ صدر نے صوبہ سرحد کے متاثرین کے لیے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ حکومت پچاس کروڑ روپے کی امداد پہلے ہی دے چکی ہے۔ ادھر فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ بیس ہزار کلومیٹر کے علاقے میں تینتیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں سے بیس لاکھ سے زیادہ کشمیر میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تباہ شدہ علاقوں میں فوج کے پچاس ہزار جوان اور اور بڑی تعداد میں رضا کار امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں امدادی ٹیمیں اب تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ وزیر اعظم کا دورہ
جب وزیر اعظم سے مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہلاکتیں اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||