زلزلہ زدگان کے لیے اتھارٹی کا قیام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے زلزلوں کے بعد آبادکاری اور بحالی کے لیے ’ارتھ کوئیک ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی‘ کے نام سے نیا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات وزیراعظم شوکت عزیز نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتائی اور کہا کہ یہ فیصلہ بدھ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے ’قومی سلامتی کونسل‘ کے اجلاس میں کیا گیاہے۔ متنازعہ قومی سلامتی کونسل کے قیام کے بعد سے یہ پہلا موقع تھا کہ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم درانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس افغانستان سے ہوتی ہوئیں چند گھنٹوں کے لیے اسلام آباد میں رکیں اور اپنے مختصر قیام کے دوران انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں امریکہ پاکستان کے ساتھ ہے اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے امریکہ پاکستان سے ہر ممکن تعاون کرے گا اور اضافی امدا بھی دے گا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ پہلے ہی چھ لاکھ ڈالر کی مالی امدا دے چکا ہے جبکہ آٹھ امریکی ہیلی کاپٹر بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ادھر صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کونسل میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات اور مسلح افواج کے سربراہوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حالیہ زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا اور صدر نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں امدادی کارروائیوں کے سلسلے میں موثر رابطہ رکھنا ضروری ہے۔ دریں اثناء صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے صوبے میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس ہزار ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق دو لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت منگل تک صوبہ سرحد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے بھی کم بتاتی رہی ہے۔ اکرم درانی کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں ایک ارب روپوں کی خصوصی گرانٹ دی ہے اور کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں جس کا بھی مکان گر گیا ہے انہیں نیا مکان بناکر دیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کونسل کے اجلاس میں شرکت پر مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں اختلاف نہیں ہے اور مولانا فضل الرحمٰن نے مرکزی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ ایک قدرتی آفت ہے اور ایسے وقت میں سیاسی اختلافات ختم کرکے اور متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔ ادھر وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے زلزلے کی وجہ سے بے گھر ہوکر آنے والے چھ سو کشمیریوں کو راولپنڈی کے اسلامیہ پبلک سکول اور حاجی کیمپ میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کے مطابق بے گھر ہوکر آنے والے ان کشمیریوں کو حکومت کھانے پینے کی سہولت فراہم کرے گی۔ حالیہ زلزلے کی وجہ سے کشمیر کے مختلف علاقوں سے کئی ایسے افراد ہیں جو راولپنڈی میں رہایش پذیر ہیں وہ اپنے اہل خانہ کو یہاں لائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||