زلزلہ اور امداد : آپ کیا کہتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، شمالی بھارت اور افعانستان میں آنے والے شدید زلزلے کے چھ دن بعد اب متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچنا شروع تو ہو گئی ہے تاہم اب بھی متاثرین کی مشکلیں کم نہیں ہوئی ہیں، بلکہ بھوک، بیماریوں اور خراب موسم کی وجہ سے ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ زلزلے، اور اس کے بعد ہونے والی قومی اور بین الاقوامی امدادی کارروائیوں کے بارے میں ہمارے قارئین نے ہمیں بہت بڑی تعداد میں ای میلز بھیجی ہیں۔ کئی ای میلز میں ہمارے قارئین نے حکومت پر تنقید کی ہے۔ تاہم کچھ قارئین کایہ بھی کہنا ہے کہ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ ای میلز نیچے درج ہیں۔ جاپان سے طاہر چودھری لکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت ہر سال اپنے بجٹ کا اسی فیصد حصہ فوج پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہ دونوں ملک آج سو سالہ امن معاہدہ کر لیں تو یہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک بن جائیں گے۔ پاکستان اور انڈیا کے عوام مل کر رہ سکتے ہیں، رکاوٹ صرف دونوں ممالک کی حکومتیں ہیں۔ پاکستانی حکومت نے آج تک اتنی بڑی تباہی کا نہ کبھی سوچا اور نہ انتظام کیا۔ حکومت نے جنگ کرنے کا انتظام تو کر لیا مگر ایسی مصیبت کا کبھی نہیں سوچا۔ میری گزارش ہے اس حکومت سے بھی اور آنے والی حکومت سے بھی کہ آئندہ کے لیے خدارا عوام کے بارے میں بھی سوچیں۔ عالمی برادری کی مدد کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ کاش پاکستان اپنی مدد آپ کر سکتا۔ امریکہ سے شبانہ نثار لکھتی ہیں کہ ایسی آفات کے لیے تیار رہنا حکومت کا فرض ہے۔ سائنس دان کئی سالوں سے کہتے آئے ہیں کہ اس علاقے میں شدید زلزلے آ سکتے ہیں۔ مگر ہمارے رہنما صرف مذہب کی باتوں میں الجھے رہتے ہیں۔ شاید اب سب کو صاف صاف نظر آ جائے کہ ہم نے اصل میں کتنی ترقی کر لی ہے اور ہماری فوج کتنی با صلاحیت ہے۔ کامران چودھری صاحب نے کینیڈا سے یہ ای میل بھیجا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ہر کوئی حکومت اور فوج کو قصور وار ٹھہرا رہا ہے۔ جبکہ یہ اس طرح کی الزام تراشی کا وقت نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہمیں پاکستانی فوج اور حکومت کی حوصلہ افضائی کرنی چاہیے۔ یہ سب کچھ اچانک ہوا۔ اس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہو سکتا تھا۔ ہری پور سے نوید لکھتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں اب تک امداد نہیں پہنچی۔ لوگ آسمان کے نیچے رہ رہے ہیں۔ آپ سے اپیل ہے کہ ہمارے حلقے تک ڈاکٹر اور ملبے سے لوگ نکالنے کے لیے آرمی بھیجی جائے۔ پلیز۔ ہمارا گاؤں بالاکوٹ سے سات یا آٹھ کلومیٹر پہلے آتا ہے۔ راولپنڈی سے اصفان دیدار نے ہمیں ای میل میں لکھ بھیجا ہے کہ پلیز ان افراد کو بچانے کی کوشش کریں جو اب تک زندہ ہیں۔ ورنہ وہ بھی بھوک اور خراب موسم سے مارے جائیں گے۔ پلیز ان کے لیے کیمپ بنائیں۔ دس بیس دن میں برف باری شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔ کینیڈا سے آئشہ ندیم نے حکومت کے لیے کچھ تجاویز بھیجی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ حکومت کو متاثرہ افراد کی ہر ممکن امداد کرنی چاہیے۔ حکومت کو ان تمام علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے جو اب تک ملک سے کٹے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ڈپارٹمینٹ بنانا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||