بے گھروں کے لیے خیمہ شہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگوں کے لیے خیمہ شہر بسانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان وزیراطلاعات شیخ رشید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے نواح میں بسائے جانے والے ان پانچ خیمہ شہروں میں خوراک بجلی اور سردی سے بچاؤ کا انتظام ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تقریباً ان تمام علاقوں تک امداد کی ترسیل شروع ہو چکی ہے جو زلزلے سے متاثر ہوئے تھے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ نیلم وادی تک ابھی فوج کی رسائی بھی ممکن نہیں ہو سکی اور اس وادی کا رابطہ مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کو زلزلے کے سلسلے میں عالمی امداد کے نگراں نے متنبہ کیا تھا کہ دور دراز علاقوں تک امداد کی بامقصد رسائی کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ژاں ایگلین نے عالمی برادری سے ہیلی کاپٹروں کی تعداد تین گنا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک دور دراز اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کا تعلق ہے ہم لوگوں کو افتاد کے اثرات سے بچانے میں گھڑی کی سوئیوں سے ہار رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امدادی ٹیمیں زیادہ آبادی والے علاقوں میں تو مؤثر طور پر کام کر رہی ہیں تاہم دوردراز دیہات میں انہیں خوراک اور امدادی اشیاء کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امداد کی تلاش میں زلزلے سے متاثرہ لوگ پہاڑوں کی بلندیوں سے نیچے اتر رہے ہیں۔ ان میں ہزاروں لوگوں کا تعلق بالا کوٹ سے ہے جس کے لوگ اپنے مرنے والے عزیزوں کو بے گور و کفن اور شدید زخمیوں کو مسلسل بگڑتے ہوئے حالات پر چھوڑ کر اپنی زندگیاں بچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||