BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 October, 2005, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مانسہرہ: 6 ہزار سے زائد ہلاکتیں

امدادی سامان ملنے کے بعد گھر کی طرف جانے کا انتظار

صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد گیارہ ہزار جبکہ بیس ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے تاہم کئی علاقوں سے اب بھی امداد نہ ملنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔


پشاور میں کرائسس مینجمنٹ سیل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع مانسہرہ میں ہوئی ہیں جہاں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور ملک بھر سے بڑی تعداد میں امدادی سامان ایبٹ آباد کے راستے متاثرہ علاقوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ ٹرکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ اس سے ٹریفک متاثر بھی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے جمعرات کو پشاور میں صوبائی کابینہ سے اس مسئلہ پر بات چیت کی۔

وزیر اعظم نے اس کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور متاثرہ شہروں کی جگہ ماڈل شہر بسانے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیوں کے منظم طریقے سے شروع ہونے کے بعد تمام علاقوں تک مدد جلد پہنچ جائے گی۔

حکومت پاکستان نے امدادی تنظیموں سے زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے چار صورتوں میں مدد کی اپیل کی ہے۔

 سرحد میں ہائی وے اتھارٹی کے مطابق ضلع شانگلہ میں خوازہ خیلہ الپوری پشام روڈ سمیت کئی سڑکیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔

وزیر اعظم کے بقول انہیں مالی امداد، خیمے اور کمبل، ادویات اور تعمیراتی سامان اور مشنری کی ضرورت ہے۔

سرحد میں ہائی وے اتھارٹی کے مطابق ضلع شانگلہ میں خوازہ خیلہ الپوری پشام روڈ سمیت کئی سڑکیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔

امریکہ، افغانستان اور جرمنی کے ہیلی کاپٹر جمعرات کو بھی متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچاتے رہے۔

دورافتادہ کوہستان ضلع میں غیرسرکاری تنظیموں کے مطابق پانچ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ قراقرم شاہراہ میں متاثرہ علاقوں کے آخر میں ہونے کی وجہ سے یہاں تک امدادی سامان پہنچ نہیں پا رہا۔

انڈس سوشل ویلفیر اینڈ ڈیولیمپمنٹ آرگنائزیشن کے طالب جان کے مطابق اس ضلع کی تحصیل پٹن اور پالس سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے شکایت کی کہ ذرائع ابلاغ میں اس علاقے پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے وہاں امداد آنے میں دیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بٹگرام اور دیگر علاقوں میں بھی ٹرک ناراض متاثرین نے لوٹ لیے ہیں۔

اسی قسم کی امداد نہ ملنے کی شکایت کالا ڈھاکہ کے علاقے سے بھی ملیں ہیں۔ یہاں سے محمد صادق نامی ایک شخص نے کہا کہ انہیں پانچ روز میں کسی نے پوچھا تک نہیں۔ علاقے میں طبی امداد کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

زلزلے سے بالا کوٹ جیسے علاقوں میں انتظامی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے مزید سرکاری اہلکار اور پولیس نفری روانہ کر دی گئی ہے۔

 پشاور میں ہر سڑک پر امداد اکھٹی کرنے کی غرض سے بڑی تعداد میں کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں بہتری آ رہی ہے لیکن مقامی رضاکاروں کے مطابق سانحہ اتنا بڑا ہے کہ ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

پشاور میں ہر سڑک پر امداد اکھٹی کرنے کی غرض سے بڑی تعداد میں کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر امدادی سامان سے بھرے نظر آتے ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی اپنے ہم وطنوں کا دکھ کم کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد