بھارتی فوج کی مدد پر اتنا وبال کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے اس دعوے کہ اس نے لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کے زلزلے میں ٹوٹ جانے والے بنکر دوبارہ بنانے میں مدد کی اور پاکستان کی تردید کہ یہ 'من گھڑت' ہے کے بعد اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے کس حد تک تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ بھارتی فوج سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انہیں پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول کے پار آنے کی دعوت دی تھی۔ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور پاکستان اور بھارت دونوں ہی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکاروں نے پاکستانی فوجیوں کی مدد کے لیے ایل او سی پار کی جو بنکر ٹوٹ جانے کے بعد شدید سردی میں کھلے آسمان کے نیچے سونے پر مجبور تھے۔ بھارت میں ان اطلاعات کو خاصی اہمیت دی گئی اور بعض جگہوں پر شہ سرخیوں میں بھی چھاپہ گیا۔ لیکن اب پاکستانی حکام کہہ رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اسے ' خالصتاً من گھڑت' قرار دیا۔ کئی دہائیوں سے ایل او سی پاکستان اور بھارتی فوج کے درمیان متواتر ہونے والی جھڑپوں کا مقام رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام امن کے عمل کی شروعات کے بعد سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں کمی آئی ہے اور اس میں بہتر رابطوں نے مدد کی ہے۔ لیکن اب بھی بہت فاصلہ طے ہونا ہے۔ پاکستان نے بھارت سے کمبل، خیمے اس طرح کی دیگر امداد قبول کی ہے لیکن وہ ہیلی کاپٹروں کی پیشکش مسترد کر رہا ہے۔ فوج کا رتبہ اور کارکردگی دونوں ممالک کے لیے وقار کا مسئلہ ہے۔ پاکستانی علاقے میں بھارت فوجیوں کی لوگوں کی مدد کرتے ہوئے تصاویر اسلام آباد کے لیے سیاسی پشیمانی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ قیام امن کا عمل اب تک طے شدہ راستے پر جاری ہے لیکن اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ پاکتسان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی مشکل یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی قیمت ہے اور دوسری طرف متاثرین کی فلاح۔ بہت سے بھارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر معاملہ اس کے بر عکس ہوتا اور زلزلہ بھارت میں آتا تو بھارت بھی شاید امداد قبول نہ کرتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||