BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 October, 2005, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ کشمیری خاندانوں کی منتقلی
مظفر آباد میں زلزلے سے متاثرہ افراد
مظفرآباد: متاثرین ایک طبی کیمپ میں انتظار کر رہے ہیں
زلزلے کے بعد پاکستانی اور بھارتی حکام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کو سرحدیں عبور کرنے دیں۔

زلزلے سے متاثرہ کشمیری خاندان لائن آف کنٹرول عبور کے کے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

کچھ کشمیری خاندان لائن آف کنٹرول کے پار اپنے عزیزوں کے تباہ حال گھر دیکھ تو سکتے ہیں مگر ان تک پہنچ نہیں سکتے۔

کشمیری خاندانوں کو متحد کرنے کی کوشش میں بھارت نےسرحد پر ٹریفک کی پابندیاں معطل کر کے مظفر آباد کے پانچ کشمیری خاندانوں کو بھارتی پنجاب میں داخل ہونے دیا ہے۔

جواب میں پاکستان بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ایک خاندان کی واپسی کا انتظام کر رہا ہے۔

 بھارت نےسرحد پر ٹریفک کی پابندیاں معطل کر کے مظفر آباد کے پانچ کشمیری خاندانوں کو بھارتی پنجاب میں داخل ہونے دیا ہے۔

جن افراد کو وطن واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے انہیں اس کے لیے لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ایل او سی پر واقع پل زلزلے کی وجہ سے مخدوش ہو چکا ہے اور سری نگر مظفر آباد بس سروس پل کی مرمت ہونے تک معطل کر دی گئی ہے۔

سرینگر میں بس کے اڈے پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مظفر آباد کے ایک وکیل جاوید اقبال جو پندرہ دن قبل اپنی تین بہنوں سے ملنے سری نگر پہنچے تھے واپس جاتے ہوئے آبدیدہ تھے۔ ان کا آدھے سے زیادہ خاندان اس زلزلے کی نذر ہوگیا ہے جبکہ ان کی بیگم ابھی تک لاپتہ ہیں۔

ایک اور مسافر نوشین خواجہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور ہمارا شہر قبرستان بن چکا ہے‘۔

ادھر بدھ کو بھارتی فضائیہ نے ادویات، خیمے اور کمبل سمیت امدادی سامان پاکستان پہنچا دیا ہے۔

گزشتہ روز کُل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے سری نگر میں اپیل کی تھی امداد کے معاملے میں پاکتان اور بھارت تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے سے امداد قبول کرنے میں ہچکچا رہے ہیں لیکن امداد کے معاملے میں سیاست کے کھیل نہ کھیلے جائیں۔‘

اس علاقے میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجیو شری واستو کا کہنا ہےکہ ان دونوں ممالک کے ان اقدامات کو امدادی کام میں مکمل تعاون تو نہیں کہا جا سکتا تاہم ان کی علامتی اہمیت ضرور ہے۔

66بیرونی امداد
بیرونی امداد پاکستان پہنچ رہی ہے۔ تصاویر
66امداد کا انتظار
متاثرین زلزلے کے چار دن بعد بھی کھلے آسمان تلے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد