پانچ کشمیری خاندانوں کی منتقلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کے بعد پاکستانی اور بھارتی حکام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کو سرحدیں عبور کرنے دیں۔ زلزلے سے متاثرہ کشمیری خاندان لائن آف کنٹرول عبور کے کے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ کشمیری خاندان لائن آف کنٹرول کے پار اپنے عزیزوں کے تباہ حال گھر دیکھ تو سکتے ہیں مگر ان تک پہنچ نہیں سکتے۔ کشمیری خاندانوں کو متحد کرنے کی کوشش میں بھارت نےسرحد پر ٹریفک کی پابندیاں معطل کر کے مظفر آباد کے پانچ کشمیری خاندانوں کو بھارتی پنجاب میں داخل ہونے دیا ہے۔ جواب میں پاکستان بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ایک خاندان کی واپسی کا انتظام کر رہا ہے۔ جن افراد کو وطن واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے انہیں اس کے لیے لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ایل او سی پر واقع پل زلزلے کی وجہ سے مخدوش ہو چکا ہے اور سری نگر مظفر آباد بس سروس پل کی مرمت ہونے تک معطل کر دی گئی ہے۔ سرینگر میں بس کے اڈے پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ مظفر آباد کے ایک وکیل جاوید اقبال جو پندرہ دن قبل اپنی تین بہنوں سے ملنے سری نگر پہنچے تھے واپس جاتے ہوئے آبدیدہ تھے۔ ان کا آدھے سے زیادہ خاندان اس زلزلے کی نذر ہوگیا ہے جبکہ ان کی بیگم ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ایک اور مسافر نوشین خواجہ کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور ہمارا شہر قبرستان بن چکا ہے‘۔ ادھر بدھ کو بھارتی فضائیہ نے ادویات، خیمے اور کمبل سمیت امدادی سامان پاکستان پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ روز کُل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے سری نگر میں اپیل کی تھی امداد کے معاملے میں پاکتان اور بھارت تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے سے امداد قبول کرنے میں ہچکچا رہے ہیں لیکن امداد کے معاملے میں سیاست کے کھیل نہ کھیلے جائیں۔‘ اس علاقے میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجیو شری واستو کا کہنا ہےکہ ان دونوں ممالک کے ان اقدامات کو امدادی کام میں مکمل تعاون تو نہیں کہا جا سکتا تاہم ان کی علامتی اہمیت ضرور ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||