متاثرین کے لیے نیٹو و بھارت کی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے بھی حکومت پاکستان کی باقاعدہ درخواست کے بعد امدادی رسد پہنچانے کے لیے کام شروع کر دیا ہے اور امدادی سامان لے کر پہلا جہاز بدھ کو روانہ ہورہا ہے۔ امریکہ نے بھی اپنے نیٹو اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے وسائل کا رخ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کی طرف موڑ دیں۔ نیٹو کے اس اتحاد میں جو انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹینس فورس یا اساف کہلاتا ہے، جرمنی اور فرانس حصہ لینے والے بڑے ملک ہیں۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نکولس برن نے اپنے فوجی اتحادیوں سے اپیل کی تھی کہ پاکستان میں قیامت خیز زلزلے سے متاثر ہونے والے لوگوں کی امداد کی جانی چاہیے انہوں نے افغانستان میں اساف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہمارے بہت سے اتحادی ہمسائے ہی میں ہیں‘۔ پاکستان کی باقاعدہ اپیل کے بعد اقوام متحدہ نے دو سو بہتر ملین ڈالر کی امدادی رقم کی اپیل جاری کی ہے۔ ہنگامی امداد کی رابطہ افسرای ویٹ سٹیوینز نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے اشد ضروری اشیا کی فہرست فراہم کردی ہے، جن میں سردیوں سے بچاؤ کے خیمے، بھاری کمبل، دوائیں، عارضی طبی مراکز اور مالی امداد شامل ہیں۔ خوراک کے عالمی پروگرام کے ترجمان ٹریور رو نے بتایا ہے کہ بیرونی امدادی سامان جلد پہنچنے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دو ہوائی راستے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک اٹلی کے شہر برندیسی سے اور دوسرا دبئی سے۔ ان دونوں مقامات سے غذائیں، دوائیں اور بجلی پیدا کرنے والے جینیریٹر بھیجے جارہے ہیں۔ ٹریور رو نے کہا کہ پروازیں اسلام آباد پہنچ گئی ہیں اور جہاں ان کی ضرورت ہوگی بھیج دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ خوراک کی عالمی تنظیم ہیلی کاپٹر بھی فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اصل مسئلہ یہ ہے یہ علاقے پہاڑی ہیں جہاں مٹی کے تودے سرک سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہم سے جہاں بھی ہو سکے گا ٹرکوں سے کام لیں گے لیکن زیادہ انحصار ہیلی کاپٹروں پر کرنا ہوگا‘۔ دریں اثنا حکومت پاکستان نے بھارت سے بھی امداد کی پیش کش کو قبول کرلیا ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع شیکھر دتا نے کہا ’ یہ چھوٹی سی پیش کش ہے۔ ہم طبی سامان، کمبل اور کچھ اور ضروری اشیاء بھیج رہے ہیں اور اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے لیے اس آڑے وقت میں نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں اور آئندہ بھی جس لائق ہوئے مزید مدد کے لیے تیار ہیں۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ کشمیر کے آر پار ان دونوں ملکوں میں کوئی تعاون نہیں ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||