'ہمیں موت کی اس وادی سے نکالیں' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان، شمالی بھارت اور افغانستان میں آنے والے زلزلے کی رپورٹنگ کے سلسلے میں بی بی سی نیوز ویب سائٹ کے عامر احمد خان مظفرآباد میں موجود ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا دارالحکومت مظفرآباد بہت بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہاں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔
عامر احمد خان نے مقامی افراد اور حکام سے ان سوالوں کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے جو ہمارے قارئیں نے انہیں بھیجے تھے۔ پاکستانی مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے، برطانوی شہر برسٹل سے پال گریگ نے بزرگ گھریلو خاتون غلام فریمہ سے سوال کیا
سوال : میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آج کل راتوں میں کتنی ٹھنڈ ہو جاتی ہے؟ اور آنے والے مہینوں میں کیا حال ہوگا؟ اور کیا سردیاں شروع ہوجانے سے پہلے لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ ملنے کی توقع ہے؟ جواب : میں پہاڑوں میں رہتی ہوں۔ میں نے اپنی ساری عمر وہیں گزاری ہے۔ سردی بہت ہے۔ کبھی کبھی تو دن میں بھی پانی برف بن جاتا ہے۔ سردیاں اس ماہ یا اگلے ماہ سے شروع ہو جائیں گی۔ مجھے سردی کی عادت ہے۔ جب میرے بچے سردی کے بارے میں پریشان کرتے تو میں انہیں تنگ کیا کرتی تھی کہ وہ زیادہ نازک ہیں۔ لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ اپنے بچوں کے بغیر میں بھی اس سردی میں نہیں بچوں گی۔ میرے خاندان میں کوئی بھی نہیں بچا۔ میں اپنے لیے ٹینٹ نہیں لے پائی ہوں کیونکہ میں کمزور ہوں۔ آرمی بھی مدد نہیں کرتی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔ پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے برطانوی شہر ریڈنگ سے شفاقت نے کپڑے کے تاجر محمد اکرم سے سوال کیا سوال : ہم امدادی کارروائیوں کے حوالے سے یہ سن رہے ہیں کہ حکومت نے اتنی تیزی سے کام نہیں کیا جس کی ضرورت تھی۔ کیا وہاں لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ علاقہ نسبتاً غریب ہے اور اس طرح کی آفت سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ تیار نہیں تھا؟ جواب : میں پاکستان سے اور پاکستانی فوج سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا یقین کریں بی بی سی یا کوئی بھی نشریاتی ادارہ اس نفرت کی عکاسی نہیں کر سکتا جو اس زلزلے کے بعد میرے دل میں بھر گئی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے؟ کیا آپ نے کبھی لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بیس بیس کروڑ کے مکان نہیں دیکھے؟ اور اس وقت وہ کیا کر رہے ہیں؟ اپنے پیسے سے کھانے کی اشیا خرید کر ادھر آتے ہیں اور ہماری طرف کھانا اس طرح پھینکتے ہیں جیسے ہم جانور ہوں۔ ان کے لیے یہ ایک ڈرامہ ہے۔ میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے بسکٹ اپنے پاس رکھو اور ہمیں ہماری غیرت اور عزت کے ساتھ یہاں چھوڑ دو۔ پاکستان کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہاں ان کے دل اور ذہن ضرور غریب ہیں۔ پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے کینیڈا سے شہریار سرور نے گھریلو خاتون حمیدہ بیگم سے سوال کیا
سوال : آپ میں سے کئی افراد اپنے عزیز و ارقاب سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ہیں۔ اس وقت آپ کی ایسی کیا مدد کی جا سکتی ہے جس سے آپ کو کچھ راہت ملے؟ جواب : ہمیں یہاں سے لے جائیں۔ یہ جگہ موت کی وادی بن چکی ہے۔ بڑے زلزلے کے بعد ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب یہاں کئی جھٹکے محسوس نہیں ہوئے۔ میں یہاں رہنے سے بہت ڈرتی ہوں۔ اپنا گھر دوبارہ بنانے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اگر میں کبھی اپنا گھر دوبارہ بنانے کی حالت میں ہوئی تو میں اسے اس جگہ سے بہت بہت دور بناوں گی۔ نہ جانے یہاں زمین کب تک ہلتی رہے گی۔ میں ان سب سے اپیل کرتی ہوں جو ہماری مدد کر سکتے ہیں کہ ہمیں موت کی اس وادی سے نکالیں۔ یہ اب شیطان کا گھر بن گئی ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر بیس منٹ پر بھارتی ریاست کیریلا کے سیم ابراہیم نے آے جے کے یونیورسٹی مظفرآباد میں سپلائر کا کام کرنے والے محمد رفیق بانڈے سے پوچھا
سوال : میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان برسوں میں حکومت پاکستان نے اس علاقے میں لوگوں کی بہتری کے لیے کیا کیا ہے؟ جواب : آپ اگر بیس سال پہلے مظفرآباد آتے تو دیکھتے کہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ اس ساری تباہی سے پہلے یہاں جو کچھ تھا ہمیں پاکستان نے ہی دیا تھا۔ ہمارا وجود پاکستان کی ہی وجہ سے ہے۔ اس کے سوا ہمارے پاس کیا ہے؟ یہاں ہم کچھ نہیں اگا پاتے۔ سب کچھ وہیں سے آتا ہے۔ زلزلے سے پہلے مظفرآباد میں اچھی سڑکیں، ہسپتال اور سکول تھے۔ یہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح ہی تھا۔ اور اب جب سب کچھ تباہ ہو گیا ہے تو پھر پاکستان ہی ہماری مدد کر رہا ہے۔ پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||