BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 October, 2005, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: مانسہرہ سے جبوڑی تک

مانسہرہ
مانسہرہ سے جبوڑی تک سفر کے دوران سڑک کے کنارے پر جگہ جگہ امدادی کیمپ لگے تھے جہاں لوگوں کا ہجوم تھا

زلزلے کے پانچ روز بعد مانسہرہ سے پہاڑوں کے اندر جبوڑی تک تقریبا پچاس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ جہاں تک سڑک ہے وہاں لوگوں کو بار بار امدادی سامان مل رہا ہے لیکن جو سڑک سے دور اُوپر پہاڑوں پر ہیں وہ بھوکے مررہے ہیں۔

مانسہرہ سے تقریبا بیس کلومیٹر دور شمال میں شنکیاری کے مقام پر ایک ذیلی سڑک ڈاڈر، بھوگڑ منگ، جبوڑی اور سچاں تک جاتی ہے۔ اسی سڑک پر ایک طرف پہاڑ ہے تو دوسری طرف سرن دریا بہتا ہے۔ اسے وادی سرن بھی کہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے قطعات میں مکئی اور چاول کی فصل نظر آتی ہے۔

مانسہرہ سے جبوڑی تک سفر کے دوران سڑک کے کنارے پر جگہ جگہ امدادی کیمپ لگے تھے جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔

امدادی سامان لینے کے لیے قطاریں لگی تھیں جنہیں پولیس اور زیادہ تر فوجی جوان کنٹرول کررہے تھے۔ سڑک پر امدادی سامان سے بھرے بڑے اور چھوٹے ٹرک اور جیپیں رواں دواں تھیں۔ جگہ جگہ فوجی جیپیں بھی نظر آئیں۔

مانسہرہ سے شنکیاری تک سڑک پر تو زلزلے کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
سب ٹھیک لگتا ہے۔ شاہراہ ریشم پر شنکیاری سے مڑ کر جبوڑی تک یہاں پر تقریبا پچیس فیصد مکانات منہدم دکھائی دیے۔ صرف وہ مکانات گرے ہوئے تھے جو کچے تھے۔ پکے مکانات عام طور پر صحیح سالم تھے۔ اکا دکا پکے مکانوں کی دیواریں گری ہوئی نظر آئیں۔

ڈاڈر اور جبوڑ میں دو تین جگہوں پر امدادی سامان تقسیم ہورہا تھا اور سینکڑوں لوگوں کو فوجی جوان قطاروں میں کھڑا ہونے پر مجبور کررہے تھے۔ زیادہ تر کھانے پینے کا سامان جیسے خشک دودھ، پیکٹوں کا دودھ، گھی کے ڈبے، لحاف اور کپڑے تقسیم کیے جارہے تھے۔ جگہ جگہ بچے گاڑیوں کو دیکھ کر امداد امداد کہتے نظر آئے۔

 محمد صدیق منڈا گوشہ سے ڈاڈر آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کےگاؤں میں تمام مکان ختم ہوگئے اور لوگ اب تک باہر بیٹھے ہیں۔ لاشیں مکانوں اور سڑک کے نیچے آگئی ہیں اور سیل زمین (سلائڈ) اتنا زیادہ ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے میتیں نکالنا ممکن نہیں۔

یوں لگتا ہے کہ سڑک کے کنارے رہنے والے ہر قصبہ اور ہر گاؤں کے شخص کو امداد چاہیے تھی اور لوگ ایک بار سے زیادہ امدادی سامان لے رہے تھے۔ تاہم ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو زلزلہ آنے سے پانچ روز بعد کسی طرح پہاڑوں پر واقع اپنے دیہاتوں سے اتر کر سڑک کے کنارے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

سڑک سے دور اوپر پہاڑوں پر واقع ان دیہاتوں کا فاصلہ تو سڑک سے ایک سے پانچ کلومیٹر ہے لیکن چڑھائی کی وجہ سے وہاں تک پہنچنے میں کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اوپر پہاڑوں سے سڑک تک آئے ہوئے لوگوں کی کہانیاں سنیے۔

محمد صدیق منڈا گوشہ سے ڈاڈر آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان گاؤں میں تمام مکان ختم ہوگئے اور لوگ اب تک باہر بیٹھے ہیں۔ لاشیں مکانوں اور سڑک کے نیچے آگئی ہیں اور سیل زمین (سلائڈ) اتنا زیادہ ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے میتیں نکالنا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں اب کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں۔ وہاں جمعرات تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔

احمد شاہ پچیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے پنجور سے ڈاڈر آئے تھے۔ ان کے گاؤں میں بھی کوئی مکان سلامت نہیں۔ چار چار پانچ پانچ لوگ مکانوں میں دبے ہوئے ہیں۔ لوگ پلاسٹک کی تھیلیوں پر سو رہے ہیں جو ان کے مطابق انہوں نے سو روپے گز کے حساب سے خریدا۔ لوگ بھوکے ہیں اورانہیں اب تک کوئی امداد نہیں ملی۔

جبڑ گلی کے عیسیٰ خان کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں میں ایک ہزار لوگ فوت ہوگئے اور اب بھی لاشیں مکانوں میں دبی ہیں جن سے بدبو آنی شروع ہوگئی ہے لیکن وہ لوگ خود سے انہیں نکال نہیں سکتے کیونکہ لینڈ سلائڈ کی وجہ سے لاشیں اٹھانے کا راستہ نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر دو روز پہلے ان کے گاؤں آیا تھا جو بارہ زخمیوں کو لے گیا لیکن اس کے بعد نہیں آیا۔

بابو عرف گوریا مان بڑی بانڈی گاوں سے سڑک کے کنارے جبوڑی آئے تھے۔ ان کے گاؤں میں دس لوگ مر گئے اور چار زخمی ہیں۔ ان کے گاؤں کو کوئی امداد نہیں ملی۔

 جبڑ گلی کے عیسیٰ خان کا کہنا تھا کہ ان کے گاؤں میں ایک ہزار لوگ فوت ہوگئے اور اب بھی لاشیں مکانوں میں دبی ہیں جن سے بدبو آنی شروع ہوگئی ہے لیکن وہ لوگ خود سے انہیں نکال نہیں سکتے کیونکہ لینڈ سلائڈ کی وجہ سے لاشیں اٹھانے کا راستہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جبوڑ میں امداد لینے گئے تو ان سے شناختی کارڈ مانگا گیا جو ان کے مطابق ملبہ کے نیچے دب گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا خدا کے سوا کوئی آسرا نہیں۔

پہاڑ پر واقع بانا گاؤں سے جبوڑی آنے والے نثار احمد نے کہا ان کے گاؤں کو کوئی امداد نہیں ملی جہاں چوبیس آدمی فوت ہوئے اور زخمی ابھی تک وہاں ملبے میں پڑے ہیں۔ ان کے گاؤں کا سڑک تک راستہ ختم ہوگیا۔ ان کے گاؤں میں ابھی تک کوئی امداد نہیں گئی اور ہیلی کاپٹر بھی نہیں گیا۔ ان کی اپیل صرف اتنی ہے کہ حکومت ان کے گاؤں کا راستہ صاف کردے۔

چہلا باغ سے جبوڑی آئے ہوئے جاوید کا کہنا تھا کہ انہیں نہ آٹے کی ضرورت ہے نہ چینی اور کھجور کی۔ انہیں اور ان کے گاؤں کو خیموں کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے بچے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ فوری طور پر اپنا مکان بناسکیں جبکہ جلد ہی برف باری کا موسم شروع ہونے والا ہے اور ان کے گاؤں میں چار چار فٹ برف پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہیلی کاپٹر نے ان کے گاؤں میں چار خیمے گرائے جو سب لوگوں کے لیے ناکافی تھے۔

ڈاڈر کے پاس سڑک پر بیٹھے ہوئے کنڈ بنگلہ گاؤں کے محمد ایوب نے کہا کہ زلزلے میں ان کے دو بھائی، ایک بھتیجا اور ایک بھتیجی ہلاک ہوگئے جن میں سے تین کی لاشیں انہوں نے نکال لیں جبکہ ایک پہاڑوں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔

کوٹ بنگلہ کے محمد ایوب کا کہنا تھا کہ 'زلزلے کے دن زمین نے جلہ کھایا (زمین ہلی) اور ان کے گاؤں کے تمام مکانات جو کہ کچے تھے گر گئے۔ زلزلے سے سڑک تک راستہ بند ہوگیا اور آج پانچ روز تک وہاں کوئی امداد نہیں پہنچی۔ ان کے خاندان کے پانچ لوگ مارے گئے اور ان کے مطابق جو زندہ ہیں وہ بھوکے مررہے ہیں'۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد