BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 October, 2005, 04:49 GMT 09:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: عمارتیں، انکوائری کا مطالبہ
زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے بھی کافی عمارتیں تباہ ہوگئیں
زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے بھی کافی عمارتیں تباہ ہوگئیں

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی اسمبلی کے رکن غلام صادق نے زلزلے میں تباہ ہونے والے اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کے بنانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سرکاری عمارتوں میں پڑھنے والی ہماری ساری نسل تباہ ہوگئی ہے۔ 'جب تک ان لوگوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انکوائری، کارروائی نہیں ہوگی تب تک معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔'

غلام صادق نے یہ بھی کہا کہ ان عمارتوں میں ناقص سامان تو استعمال کیے گئے تھے ہی اور ساتھ ہی ساتھ ان کے گرنے کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ دو منزلہ یا تین منزلہ عمارتیں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مظفرآباد، راؤلاکوٹ اور باغ کے اضلاع میں تباہی ہوئی جہاں حکومتی مشینری بھی مفلوج ہوگئی لیکن باقی تین اضلاع جیسے میرپور، کوٹلی اور بھمبر بچ گئے جہاں سے لوگوں نے امداد پہنچانی شروع کی۔

غلام صادق کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے جیسے سراڑی، پڑکوٹ، ناریاں، گواٹی، ہجیرہ وغیرہ میں اب بھی امداد کی سخت ضرورت ہے۔ 'تمام مکانات زمیں بوس ہوگئے ہیں، لوگ آسمان کے نیچے ہیں، بچے ٹھٹر کر مررہے ہیں، سردی کی ایک لہر آئی ہوئی ہے۔'

کارروائی کی ضرورت
 جب تک عمارتیں بنانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انکوائری اور کارروائی نہیں ہوگی تب تک معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔
رکن اسمبلی غلام صادق

انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ حد تک امدادی سامان لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے اور خصوصی طور پر 'تمبو (خیموں) کی ضرورت ہے جس کی اب تک کہیں سے بھی ہمیں امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔' غلام صادق ہجیرہ کے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب زلزلہ آیا اس وقت وہ مظفرآباد میں تھے، وہ فوری طور پر مکان سے باہر آئے اور لوگوں کو فون کرنا شروع کیا۔ 'پتہ چلا کے سارے علاقے متاثر ہوگئے تھے۔'

غلام صادق کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہنگامی طور پر امداد جمع کرنے کی کوشش کی اور گاڑیاں کرائے پر لیکر زخمیوں کو کوٹلی اور راولپنڈی منتقل کرنا شروع کردیا لیکن اب بھی بہت زخمی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'جو صورتحال ہے، کوئی زحمی ہے، کوئی بری طرح پڑا ہے، کچھ معذور ہوگئے ہیں، اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ آسمان تلے باہر بیٹھے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔'

66زلزلہ: ساتواں دن
زلزلے کے بعد ساتویں دن کی کچھ تصاویر
66مانسہرہ کی جانب
امدادی کارکنوں کا ریلہ چل پڑا تھا۔۔۔
66کوٹ گلہ مکمل تباہ
پہاڑوں پر واقع دیہات کے لوگ امداد کے منتظر
66بٹل میں تباہی
بٹل کےقصبے میں زلزلے کی تباہ کاریاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد