مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | زلزلے سے عورتیں اور بچے بری طرح متاثر ہوئی ہیں |
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین رضا کاروں نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کے لیے ادویات اور خواتین کی خصوصی ضروریات کے لیے استعمال میں آنے والی اشیا کو ان علاقوں میں بھیجنے کے لیے ایک ریلیف کیمپ لگایا ہے۔ ان رضا کاروں کی سربراہ جارجینا تبسم جو زلزلے سے متاثرہ علاقوں مظفرآباد، باغ ارو بالا کوٹ کا دورہ کر کے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی گزشتہ چند روز میں خواراک، ادویات اور کمبل ہی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھجوائے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہاں انہیں بہت سی خواتین ملیں جنہوں نے ان سے درخواست کی کہ خواتین کی خصوصی ضروریات کے حوالے سے اگر سامان ان علاقوں میں بھیجا جائے تو کھلے آسمان کے تلے بیٹھی خواتین کی شرمندگی اور مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھی اس مسئلے پر سوچنا چاہئے اور وہاں خواتین کی ضروریات کے لیے سامان بھیجنا چاہئے۔ جارجینا کے مطابق اس وقت پورے ملک سے متاثرہ علاقوں میں ہر چیز بھیجی جا رہی ہے سوائے خواتین کی خصوصی ضروریات میں استعمال ہونے والی چیزوں اور حاملہ خواتین کے لیے ادویات کے۔ان کے مطابق حاملہ خواتین صدمے اور بھوک سے نہایت کمزوری کی حالت میں ان متاثرہ علاقوں میں زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جس میں اکثر خواتین بھی اپنی خصوصی ضروریات کے حوالے سے کچھ کہنے سے کتراتی ہیں۔ جارجینا نے کہا کہ جو بھی امدادی سامان ان متاثرہ علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے اس میں اگر کوشش کی جائے کہ خواتین کی خصوصی ضروریات کی کچھ چیزیں شامل کر لی جائیں تو اس سے ان علاقوں کی خواتین کی مشکلات حل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں خواتین رضاکاروں کے نہ ہونے سے خواتین کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ |