'اب دس گنا بڑا ریلیف آپریشن ہوگا' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اگلے ہفتے سے ایسی امدادی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا جو موجودہ ریلیف آپریشن سے دس گنا یا اس سے بھی بڑی ہوسکتی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زلزلے کے رد عمل میں دی جانے والی بین الاقوامی امداد کو مربوط بنانے کے اقوام متحدہ کے ذمہ دار ژاں ایگلین نے کہا کہ ابھی تک حکام، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں میں نہیں پہنچ سکے اور وہاں امداد فراہم نہیں کی جاسکی۔ انہوں نے کہا کہ ریلف کوششوں کو مربوط بنانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ مصیبت در مصیبت جیسی صورتِ حال پیدا ہو جائے گی۔ ژاں ایگلین نے کہا وہ بار بار عالمی برادرای سے اپیل کر رہے ہیں کہ پاکستان میں مزید ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ سات دن کے بعد ملبے سے لوگوں کے زندہ نکل آنے کی امید بہت کم ہے لیکن معجزے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس نوعیت کی آفت جو کئی نسلوں میں ایک بار آتی ہے، بھر پور انداز سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ دریں اثناء اقوامِ متحدہ نے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے سات دن بعد پاکستانی حکام نے ملبے کے نیچے دبے ہوئے زندہ افراد کو نکالنے اور بچے ہوئے افراد کی بحالی کے کام کو مرحلہ وار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق گزشتہ رات مظفرآباد میں ایک اجلاس ہوا جس میں ملبے میں پھنسے زندہ افراد کی تلاش اور بچ جانے والوں کو امداد فراہم کرنے اور ان کی بحالی جیسے معاملات پر غور کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سات دن کے بعد ملبے سے لوگوں کو زندہ باہر نکالنے کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں لہذا اب تمام تر توجہ بچ جانے والوں کی بحالی پر لگانے کی ضرورت ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مظفرآباد میں پاک فوج کے میجر فاروق ناصر کا کہنا ہے کہ لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کا کام ختم کر دیا گیا ہے اور اب توجہ لاشوں کو نکالنے اور بحالی کے کام پر ہو گی۔ تاہم آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ملبے میں دبے زندہ افراد کی تلاش جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ' ہم نے لوگوں کے زندہ بچنے کی امید نہیں چھوڑی ہے اور انہیں نکالنے کے لیے انتھک کوششیں کی جا رہی ہیں جس کے ساتھ ساتھ امدادی کارروائیاں بھی زوروشور سے جاری ہیں'۔ مظفر آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار دومیتھا لوتھر کے مطابق زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور بچ جانے والوں کی بحالی کے کام کی ترجیحات مقرر کی گئی ہیں اور اب امدادی کارروائیوں کا محور لاشوں کو نکالنے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو پر ہوگا۔ مظفرآباد کے کچھ علاقوں میں بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے جبکہ شہر کے بقیہ حصوں میں ملبہ ہٹانے کے بعد بجلی بجال کر دی جائے گی۔ حکام گرڈ سٹیشن کی مرمت بھی کر رہے ہیں تاکہ دوردراز دیہات کو بھی بجلی کی فراہمی جلد ازجلد بحال کی جا سکے۔ جمعہ کی صبح سے ہی مظفرآباد کے نیلم سٹیڈیم میں قائم شدہ عارضی ہسپتالوں میں دور دراز دیہات سے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے زخمیوں کو لانے اور لے جانے کا کام جاری ہے تاہم ابھی بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھی رسائی نہیں ہو سکی ہے اور وہاں لوگ طبی امداد نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو رہے ہیں۔ مظفرآباد سے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا آپریشن ہے اور ہمیں اندازہ نہیں کہ کتنی پروازیں آ جا رہی ہیں'۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||