زلزلے کے مزید جھٹکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جمعرات کی رات مزید کئی جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں غیر یقینی اور خوف کا احساس پھیل گیا ہے۔ مظفر آباد، بٹ گرام اور مانسہرہ سے بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ یہ جھٹکے پوری رات محسوس کئے گئے اور زیادہ تر لوگوں نے رات کھلے آسمان تلے ہی گزاری۔ بٹ گرام سے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ ان جھٹکوں میں سے ایک جھٹکا اتنا شدید تھا کہ لوگوں نے گھبرا کر بھاگنا شروع کردیا۔ مانسہرہ سے عدنان عادل نے بتایا کہ وہاں ایک بڑا جھٹکہ دس سیکنڈ تک محسوس کیا گیا اور زیادہ تر لوگوں نے یا تو کھلے آسمان تلے رات گزاری یا پھر اپنی گاڑیوں میں سو کر رات بسر کی۔ مظفر آباد سے شاہ زیب جیلانی نے بتایا ہے کہ وہاں بھی ان جھٹکوں کے وجہ سے زیادہ تر لوگ اپنے بچے کچے گھروں میں داخل ہونے سے گریز کررہے ہیں۔ ان تمام علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ابھی تک دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ ایک نامہ نگار کے مطابق مظفر آباد سے چکوٹھی کے راستے میں واقع زیادہ تر گاؤوں میں تقریباً نوے فیصد گھر تباہ دکھائی دیتے ہیں۔ مظفر آباد میں امدادی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بھاری مشینری کی کمی ہے اور پرائیویٹ کمپنیوں سے مشینری حاصل کرنے کے باوجود اب تک ایسی مشینری کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ بٹ گرام سے نامہ نگار نے بتایا ہے علاقے میں خوارک اور دیگر امدادی سامان پہنچنا تو شروع ہوگیا ہے لیکن سردی بڑھ جانے کے باعث گرم کپڑوں اور رضائیوں کی سخت ضرورت ہے۔ زلزلے کے متاثرین امداد کی تقسیم غیر منظم ہونے کے بارے میں ابھی تک شکایات کررہے ہیں اور کئی علاقوں میں لوگ رکاوٹیں کھڑی کر کے امدادی ٹرکوں کو زبردستی اپنے گاؤوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||