ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
| | بچی کا زندہ بچ جانا معجزہ سے کم نہیں |
پاکستان کی تاریخ کے بدترین زلزلے کو سات دن گزر جانے کے بعد جمعہ کو مانسہرہ کے گاؤں بالی منگ میں ایک گھر کے ملبے تلے سے ایک ڈیڑھ سالہ بچی کو معجزاتی طور پر زندہ بچالیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بالی منگ میں پچیس افراد پر مشتمل رضاکاروں کی ایک ٹیم گاؤں کے مکاونوں کا ملبہ ہٹانے میں مصروف تھی۔ٹیم کوایک گھر کے ملبے کے نیچے سے ایک بچی بے ہوش حالت میں ملی۔ ٹیم میں شامل ڈاکٹر مظہر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کو جب ابتدائی طبی امداد دی گئی تو وہ ہوش میں آگئی اور فوراً اٹھ بیٹھی۔ اس بچی نے ہوش میں آنے کےبعد رونا شروع کر دیا۔ اس بچی کی والدہ اور دو بھائیوں کو قریب ہی مردہ حالت میں پایا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق بچی کا بات جو اپنے تمام اہلِ خانہ کے ہلاک ہوجانے پر گزشتہ سات دنوں سے غم سے نڈھال ہو رہا تھا بچی کے زندہ بچ جانے پر انتہائی خوش ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سات دن تک ملبے تلے کس کے زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں کیوں کہ ان حالت میں کوئی شخص زیادہ سے زیادہ چار سے پانچ دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ |