'زلزلے کے بعد سے بچنا مشکل ہے' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختلف علاقوں کے لوگ بی بی سی سے رابطہ کر رہے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں کے حالات بتا رہے ہیں۔ ان میں مظفر آباد ہی میں، جہاں بتایا جاتا ہے کہ امدادی کارروائیلاں زور شور سے جاری ہیں، ایک خاندان کے لوگوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ وہ زلزلے سے تو بچ گئے ہیں لیکن بعد کے ان حالات سے ان کا بچنا مشکل ہے جو وہاں اس وقت ہیں۔ متاثرین اور چشم دید بیانات پٹیکا سے جہاں زیب اور ان کے والد عبدالرحیم بتاتے ہیں 'ہمارے گاؤں میں چار سو گھر ہیں جو سب کے سب تباہ کاری کا نشانہ بنے ہیں۔ادھر دو دن مسلسل بارش ہوتی ہے۔ اس دوران لوگوں کے پاس پلاسٹک وغیرہ جو کچھ تھا وہ اس سے ان سے اپنا بچاؤ کرتے رہے لیکن ہوا تیز ہونے کی وجہ سے پلاسٹک بھی پھٹ گئے۔ اس کے بعد سے ہم بے یارو مددگار ہیں۔ یہاں جہاز سے کچھ چیزیں گرائی گئی تھیں لیکن لوگ زیادہ اور چیزیں کم تھیں تھوڑا تھوڑا سب نے بانٹا۔ اس میں چاول تھے۔ دودھ تہا اور دواییں وغیرہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حالت کا اندازہ سن کر نہیں کیا جا سکتا صرف گزر کر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اب تک تو کوئی آیا نہیں سیری کو بڑی جگہ نہیں ہے۔ یہاں پچاس گھر ہیں اور تمام گھر گر گئے ہیں۔یہاں نہ تو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے اور نہ ہی سر چھپانے کی جگہ ہے۔ ہم امدادا کے انتظار میں ہیں۔ اس کے لیے مظفر آباد بھی گئے تو وہاں کہا گیا کہ فہرست بنا دو اور اپنے علاقے ہی میں رہو۔ امداد ہر گاؤں تک پہنچائی جائے گی۔اس بات کو بھی تین دن ہو گئے ہیں۔ اب تک تو کوئی آیا نہیں ہے۔
امارت میں ملازم، پرویز سلطان میں کل ہی اپنی بہن سے بات کی ہے وہ میرا سرو کے سلاقے کے سامنے والے علاقے میں رہتے ہیں۔ یہ علاقے مظفر آباد کا نواح ہیں۔ ان میں جسکار، میرا سرو، انبور، پجاں شریف، رحیم کوٹ، اور نکریٹوک وغیرہ کے علاقے لگتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا اتنے دن گزر گئے ہیں اب ان کو امداد مل گئی ہو گی۔ لیکن نہیں ملی یہ بات بھی اس لیے ممکن ہوئی کہ لاہور سے ایک صاحب موبائل کے ساتھ وہاں آئے ہوئے تھا۔ مواصلات کا نظام تو درہم برہم ہے ہی اس پر دو روم بارش ہوتی رہی اور پھر زلزلے کے مزید جھٹکے لگے۔ میں سے سوچا یہ علاقہ مظفر آباد سے دور ہے مظفر آباد سے پتہ کرنا چاہیے۔ وہاں میں نے فون کیا اتفاق سے ان کا فون کام کر رہا تھا انہوں نے بتایا ان کے پاس کچھ نہیں ہے شہر میں وبا بھی پھیلنے لگی ہے لگتا ہے زلزلے سے تو بچ گئے ہیں لیکن اس کے بعد کے ان حالات سے نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے بتایا 'ہماری موت یقینی ہے'۔ ہمرے ساتھ ہی امارات میں کام کرنے والے باغ چوہدری محمود واپس گئے ہوئے تھے ان کا ایک اور ایک بیٹی زلزلے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اب وہ اپنے باقی خاندان کو لے کر جس میں سب کے سب زخمی ہیں باغ سے جا چکے ہیں۔ میری خود اپنے گاؤں بات نہیں ہو سکی میں نہیں کہہ سکتا کہ وہاں کتنے لوگوں کی تدفین ہو سکی ہے کتنے زخمیوں کو ملبے سے نکالا جا سکا ہے اور زندہ بچ گیے ہیں ان کا کیا حال ہے۔ | اسی بارے میں شانگلہ میں خیموں کی ضرورت13 October, 2005 | پاکستان افراتفری، بےبسی، بے چارگی13 October, 2005 | پاکستان مانسہرہ: 6 ہزار سے زائد ہلاکتیں13 October, 2005 | پاکستان اسلام آباد میں زلزلے کے جھٹکے 13 October, 2005 | پاکستان جوہری تنصیبات محفوظ ہیں13 October, 2005 | پاکستان خیمے، ماسک اور ہیلی کاپٹر چاہییں13 October, 2005 | پاکستان امداد پہنچنا شروع، تقسیم غیر منظم13 October, 2005 | پاکستان ہجیرہ کے محمد حفیظ کی کہانی13 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||