'زلزلہ سے بحالی: دہائی لگ سکتی ہے' | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان میں زلزلے کے بعد عالمی امدادی کام کو مربوط بنانے کے کام کے نگراں ژاں ایگیلینڈ نے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کے آس پاس زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو پھر سے آباد کرنے میں ایک دہائی کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔ ایگیلینڈ کا کہنا ہے کہ اس کام کو انجام دینے کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے اور اس میں عالمی برادری کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ فوری ہنگامی امداد کا آپریشن کم از کم دوماہ میں مکمل ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں بھی عالمی ردِ عمل تیز تر ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ابھی تک امدادی کارکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں میں نہیں پہنچ سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلف کوششوں کو مربوط بنانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ مصیبت در مصیبت جیسی صورتِ حال پیدا ہو جائے گی۔ ژاں ایگیلینڈ نے کہا وہ بار بار عالمی برادرای سے اپیل کر رہے ہیں کہ پاکستان میں مزید ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ سات دن کے بعد ملبے سے لوگوں کے زندہ نکل آنے کی امید بہت کم ہے لیکن معجزے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس نوعیت کی آفت جو کئی نسلوں میں ایک بار آتی ہے، بھر پور انداز سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||