آخر امداد کہاں جا رہی ہے ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب میں بالا کوٹ کی خمیہ بستی کے زلزلہ میں سب کچھ لٹا دینے والے سبزی فروش مشتاق سے ملا تو وہ کہہ رہا تھا، ہم بھی حیران ہیں کہ پاکستان سے بھی امداد آ رہی ہے، بیرون ملک سے بھی آ رہی ہے لیکن جا کہاں رہی ہے۔ اس وقت تو میں نے یہ سوچ کر غور نہیں کیا کہ تباہی کے اس معیار پر کوئی بھی کسی کو خوش نہیں کر سکتا۔ لیکن جب میں بٹگرام جاتے ہوئے بٹل کے مقام پر تھوڑی دیر کے لیے رکا تو وہاں ریلیف کے انچارج سے بات چیت کے دوران بالا کوٹ کا مشاق مجھے پھر سے یاد آ گیا۔ ریلیف کے انچارج لیفٹینٹ کرنل محمد خالد نے بتایا کہ وہ شناختی کارڈ دیکھ کر امداد دیتے ہیں لیکن اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ نہ بھی ہو اور وہ مجبوری ظاہر کرے تو اس کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے امداد دے دیتے ہیں۔ لیفٹینٹ کرنل خالد نے بتایا کہ انہیں ایسی خبریں ملتی رہتی ہیں کہ فلاں گھر میں دس ٹینٹ پڑے ہیں اور فلاں گھر میں پچاس ٹینٹ پڑے ہیں اور فلاں لوگوں نے سٹور بنا رکھے ہیں۔ فوج خود کسی کے گھر چھاپے نہیں مارتی لیکن پولیس کے ذریعے پوچھ گچھ کرواتے ہیں اور دو تین گھروں میں گئے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ آپ نے اتنا ذخیرہ کیوں کیا ہوا ہے۔ ریلیف کمانڈر کے خیمے کے باہر ہی میری ملاقات اس ادارے کے نمائندے سے ہوئی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں’ آنکھ اور کان‘ کا کام کر رہا ہے۔
یونین کونسل بٹل کے ناظم محمد صادق رشیدی سے جب میں نے پوچھا کہ وہ مقامی ہوتے ہوئے کئی بار امداد لینے والوں کو کیوں نہیں روکتے تو ان کا جواب تھا۔ پہلے ہی ہماری اتنی بدنام ہو گئی ہے ۔ لوگ ہمیں گالیاں دے رے ہیں۔ اگر ہم کسی کو یہ کہیں کہ آپ پہلے بھی امداد لے چکے دوبارہ نہ لیں تو وہ ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کریں گے۔ ہم شرم کے مارے بھی ان کو نہیں کہہ سکتے۔ جب میں نے اس سے کہا کہ بطور ناظم آپ کی کیا ذمہ داری ہوئی تو انہوں نےکہا کہ ہم فوج سے روزانہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمارے نشاہدی پر لوگوں کو امداد دیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کیا انہوں نے کبھی فوج کو بتایا کہ فلاں شخص نے اتنی مرتبہ امداد لے لی ہے تو ان کا جواب تھا’ یہ تو ہم نہیں بتا سکتے‘۔ ناظم نے کہا کہ انہوں نے فوج کو تجویز دی ہے کہ عام لوگوں کو دینا بند کریں اور گاؤں کی سطح پر دینا شروع کریں تو یہ کام رک جائے گا۔ ناظم کہتے ہیں کہ وہ کھل کر ووٹروں کے سامنے نہیں آ سکتے۔ ایسی صورت میں تو ہم اور زیادہ بدنام ہوجائیں گے۔ اگر ہم نے ان لوگوں کی شکایت کی جو خیمے اور کمبل اکھٹے کر رہے ہیں تو پھر ہماری ان سے دشمنی شروع ہو جائے گی۔ اس کا اثر کیا ہو گا۔ جو لوگ مستحق نہیں ہیں اور اتنی امداد اکھٹی کر رہے ہیں تو پھر یہ لوگ اس امداد کو بیچیں گے اور مستحق خریدیں گے اور کچھ کروڑ پتی تو نہیں لکھ پتی تو بنا ہی دے گا۔ یہ کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔ شانگلہ کے ایک سرکاری افسر نے اسی معاملے کا ایک اور پہلو مجھے دکھایا۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ ان ناظموں کے پاس ’بھیک‘ مانگنے نہیں جاتے جن کو انہوں نے انتخابات میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ جن کے پاس کوئی انتظامی یا عوامی اخیتار نہیں ہے کیا انہوں نے کوئی کسر چھوڑی۔ گڑی حبیب اللہ کی ذکیہ بی بی نے مجھے یہ کہانی سنائی: زلزلہ والے دن میں اپنی رشتہ دار کا پتہ کرنے کے لیے تین بجے آئی تھی کیونکہ ٹیلیفون تو بند ہو چکے تھے۔ گاڑی والے نے پانچ روپے کی بجائے پندرہ روپے لے لیے اس وقت میرے پاس صرف پندرہ روپے تھے جو گاڑی والے نے لیے اور میر ے پاس کچھ نہیں بچا۔ ’میں نے اس کو کہا کہ خدا کا خوف کریں اوپر کیا بنا ہوا اور تم نے کرایہ بڑھا دیا ہے لیکن ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا‘ واپس جاتے ہوئے میں نے اپنے بھائی سے تیس روپے لیے ۔بیس روپے کرایہ دے دیا اور دس روپے کے چاول خریدے جوعارضی چولہہ بنا کر پکائے اور اس سے افطاری کی۔ کپڑے بیچنے کا کاروبار کرنے والوں نے بھی کوئی فرق نہ چھوڑا اور کفن جو عام حالات میں چار سو کا مل جاتا تھا وہ نو سو روپے میں بیچا۔ ایک ایک گھر میں تین تین چار جنازے پڑے ہوئے تھے لوگوں کے پاس کفن کے پیسے نہیں تھے اور یہ ہم نے خود دیکھا کہ لوگوں نے میتوں کو انہیں کپڑوں میں دفنا دیا۔ اس طرح کی کہانیاں سننے کے بعد یہ بحث ہی بے معنی سی لگتی ہے کہ با اختیار کیا رہے ہیں اور بے اختیاروں نے ایک دوسرے کے ساتھ کیا کیا لیکن دوسرے ہی لمحے یہ بھی یاد آ جاتا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ | اسی بارے میں امداد پہنچ گئی، تقسیم کا مسئلہ12 October, 2005 | پاکستان زلزلہ امداد، ’جوش کم ہو رہا ہے‘01 November, 2005 | پاکستان زلزلے نے سب کو برابر کر دیا 03 November, 2005 | پاکستان امداد صرف ’اپنے‘ لوگوں کے لیے06 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||