BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ امداد، ’جوش کم ہو رہا ہے‘

زلزلہ سے متاثرہ لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔
زلزلہ متاثرین کے لیے ملک بھر میں عطیات جمع کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے ۔ متاثرین کے لیے عید کے خصوصی تحائف بنائے جا رہےہیں لیکن بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اب عام لوگوں میں ویسا جوش وخروش نہیں رہا جو شروع کے دونوں میں تھا۔

صدر مشرف کی اپیل پر لوگوں نے الگ الگ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ رائے دی ہے کہ اگرچہ یہ بات اہم ہے کہ کون اپیل کر رہا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا اپیل کی جارہی ہے ؟اور کس کے لیے کی جارہی ہے۔؟

لاہور میں شروع شروع کے دونوں میں لوگ گھر گھر چندہ اکٹھا کر رہے تھے جگہ جگہ کیمپ لگے تھے لیکن اب یہ سرگرمیاں کچھ مانند پڑگئی ہیں اور صدر مشرف کے اعلان کے بعد بھی کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آئی۔

لاہور کی بستی سیدن شاہ کی ایک خاتون نے کہا کہ ان کے محلے سے بڑی امداد گئی ہے لیکن اب کچھ کمی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی مدد جانی چاہیے اور ان کاخیال ہے کہ اب امداد پرانے کپڑوں کی بجائے نقد رقوم کی ہونی چاہیے یا پھر خیے بھیجنے چاہیے۔

ایک سیکیورٹی گارڈ کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جذبہ ہمدردی میں کمی نہیں ہے۔
پشارو سے ہمارے نامہ ہارون رشید نے بتایا ہے کہ صدر کی اپیل پر سرحد میں کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے اور زلزلے کے فوری بعد جو گرمجوشی تھی وہ اب کچھ مانند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔لیکن انہوں نے بتایا کہ بعض رفاعی تنظیمیں ابھی بھی کام کر رہی ہیں اور سنیئر صوبائی وزیر نے خود جھولی پھیلا کر امداد مانگنے کی مہم کا آغاز کیا ہے۔

کوئٹہ سے ایوب ترین کا کہنا ہے کہ صدر کے اعلان کا خیر مقدم تو کیا گیا ہے لیکن صدر کے اعلان کے بعد کوئی خصوصی کیمپ قائم نہیں ہو ئے۔

کوئٹہ سے ہی ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے صدر کے اس بیان کی تائید کی ہے کہ لوگوں کو زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے سامنے آنا چاہیے کوئٹہ کے ایک نوجوان کی رائے تھی کہ وہ خود اس کام کے جانا چاہیں گےجبکہ ایک دوسرے شہری کی تجویز تھی کہ امداد اکٹھی کرنے کا کام بھی فوج کو سونپا جائے کیونکہ دوسری صورت میں بعض مفاد پرست عناصر خود فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ملتان سے ہمارے نامہ نگار ندیم سعید نے بتایا ہے کہ صدر کی اپیل پر امدادی کارروائیوں میں مصروف کسی سیاسی یا غیر سیاسی تنظیم نے کوئی بیان جاری کیا نہ کوئی خاص ردعمل دیا۔

کراچی کی صورتحال ملک کے باقی علاقوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے کراچی سے ہمارے نامہ نگار ادریس بختیار کا کہنا ہے کہ صدر کی اپیل پر کوئی خاص ردعمل نہیں ہے ایک شہری نے نامہ نگار ادریس بختیار سے گفتگو کرتے ہوئے اس شک کا اظہار کیا کہ امدادی سامان اصل حقدار تک پہنچ بھی پاتا ہے یا نہیں جبکہ ایک دوسرے شہری نے کہا کہ وہ امداد دیتے رہے ہیں اور مزید بھی دیں گے لیکن اس کے بارے میں چرچا نہیں کریں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو عام لوگوں کی امداد میں کمی کے رجحان نظر آرہےہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایسے واقعات میں عام طور پر ابتدائی ردعمل بہت جذباتی ہوتا ہے اور اس کے تسلسل کو اسی شدت کے ساتھ برقرار رکھنا کہیں بھی ممکن نہیں ہوتا تاہم ابھی لوگوں میں زلزلہ زدگان کا درد اسی شدت سے موجود ہے اور لوگوں نے عید پر بھی انہیں نہیں بھلایا۔

اور اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ پاکستان کا عام شہری امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں بے دلی کا شکار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد