زلزلہ امداد، ’جوش کم ہو رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلہ متاثرین کے لیے ملک بھر میں عطیات جمع کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے ۔ متاثرین کے لیے عید کے خصوصی تحائف بنائے جا رہےہیں لیکن بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اب عام لوگوں میں ویسا جوش وخروش نہیں رہا جو شروع کے دونوں میں تھا۔ صدر مشرف کی اپیل پر لوگوں نے الگ الگ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ رائے دی ہے کہ اگرچہ یہ بات اہم ہے کہ کون اپیل کر رہا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا اپیل کی جارہی ہے ؟اور کس کے لیے کی جارہی ہے۔؟ لاہور میں شروع شروع کے دونوں میں لوگ گھر گھر چندہ اکٹھا کر رہے تھے جگہ جگہ کیمپ لگے تھے لیکن اب یہ سرگرمیاں کچھ مانند پڑگئی ہیں اور صدر مشرف کے اعلان کے بعد بھی کوئی خاص ہلچل نظر نہیں آئی۔ لاہور کی بستی سیدن شاہ کی ایک خاتون نے کہا کہ ان کے محلے سے بڑی امداد گئی ہے لیکن اب کچھ کمی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی مدد جانی چاہیے اور ان کاخیال ہے کہ اب امداد پرانے کپڑوں کی بجائے نقد رقوم کی ہونی چاہیے یا پھر خیے بھیجنے چاہیے۔ ایک سیکیورٹی گارڈ کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جذبہ ہمدردی میں کمی نہیں ہے۔ کوئٹہ سے ایوب ترین کا کہنا ہے کہ صدر کے اعلان کا خیر مقدم تو کیا گیا ہے لیکن صدر کے اعلان کے بعد کوئی خصوصی کیمپ قائم نہیں ہو ئے۔ کوئٹہ سے ہی ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے صدر کے اس بیان کی تائید کی ہے کہ لوگوں کو زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے سامنے آنا چاہیے کوئٹہ کے ایک نوجوان کی رائے تھی کہ وہ خود اس کام کے جانا چاہیں گےجبکہ ایک دوسرے شہری کی تجویز تھی کہ امداد اکٹھی کرنے کا کام بھی فوج کو سونپا جائے کیونکہ دوسری صورت میں بعض مفاد پرست عناصر خود فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ملتان سے ہمارے نامہ نگار ندیم سعید نے بتایا ہے کہ صدر کی اپیل پر امدادی کارروائیوں میں مصروف کسی سیاسی یا غیر سیاسی تنظیم نے کوئی بیان جاری کیا نہ کوئی خاص ردعمل دیا۔ کراچی کی صورتحال ملک کے باقی علاقوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے کراچی سے ہمارے نامہ نگار ادریس بختیار کا کہنا ہے کہ صدر کی اپیل پر کوئی خاص ردعمل نہیں ہے ایک شہری نے نامہ نگار ادریس بختیار سے گفتگو کرتے ہوئے اس شک کا اظہار کیا کہ امدادی سامان اصل حقدار تک پہنچ بھی پاتا ہے یا نہیں جبکہ ایک دوسرے شہری نے کہا کہ وہ امداد دیتے رہے ہیں اور مزید بھی دیں گے لیکن اس کے بارے میں چرچا نہیں کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو عام لوگوں کی امداد میں کمی کے رجحان نظر آرہےہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایسے واقعات میں عام طور پر ابتدائی ردعمل بہت جذباتی ہوتا ہے اور اس کے تسلسل کو اسی شدت کے ساتھ برقرار رکھنا کہیں بھی ممکن نہیں ہوتا تاہم ابھی لوگوں میں زلزلہ زدگان کا درد اسی شدت سے موجود ہے اور لوگوں نے عید پر بھی انہیں نہیں بھلایا۔ اور اس سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکالا جاسکتا کہ پاکستان کا عام شہری امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں بے دلی کا شکار ہے۔ | اسی بارے میں زلزلے نے مجھ کیا کیا چھین لیا؟ 28 October, 2005 | پاکستان دیر نہ کریں: امدادی اداروں کی اپیل26 October, 2005 | پاکستان مریضوں کےاعضاء کاٹنے کاعمل 27 October, 2005 | پاکستان ’وعدے ٹھیک پر پیسے کہاں ہیں‘27 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||