دیر نہ کریں: امدادی اداروں کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ اور آفات سے متاثرہ افراد کو امداد دینے والے اداروں کے اہلکاروں نے ایک بار پھر آگاہ کیا ہے کہ اگر جنوبی ایشیاء میں زلزلے سے متاثرہ افراد کو امداد نہیں فراہم کی گئی تو صورتِ حال مزید ابتر ہوجائے گی۔ ادھر عطیات جمع کرنے کے لۓ اقوام متحدہ کی کانفرنس آج جنیوا میں ہو رہی ہے۔ جینوا میں ہمارے نامہ نگار ثقلین امام نے بتایا ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد جنیوا پہنچ گیا ہے اور عالمی اداروں کے اہلکاروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہے۔ گزشتہ روز برطانوی امدادی ایجنسی آکسفیم نے دنیا کے امیر ملکوں پر الزام لگایا تھا کہ جنوبی ایشیائی زلزلے میں امدادی کارروائیوں کے لۓ اقوام متحدہ کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو ہونے والی کانفرنس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور امید ہے کہ پچاس سے زائد ممالک کے نمائندے کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ ’کوفی عنان نے پوری دنیا کو خبردار کیا تھا کہ اگر فوری طور پر پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کی امداد نہ کی گئی تو اموات کی ایک اور لہر آئے گی جس سے کئی ہزار افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔‘ ثقلین امام کے مطابق اس سلسلے میں مختلف اہداف مقرر کیے گئے تھے کہ فوری امدادی کام کرنے کے لیے اتنی رقم کافی ہو گی۔ آکس فیم کا کہنا ہے کہ امریکہ، جاپان، جرمنی، اور اٹلی نے اپنی حیثیت سے بہت کم رقومات دی ہیں اور بعض ملکوں مثلاً فرانس، بیلجیئم ، آسٹریا، اور فن لینڈ نے کچھ بھی نہیں دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے جو تین سو ملین ڈالر مانگے ہیں اس کے ایک تہائی کے بھی وعدے نہیں آۓ ہیں۔ |
اسی بارے میں بالاکوٹ: سگریٹ کی طلب 25 October, 2005 | پاکستان الائی کا کیا ہوگا؟25 October, 2005 | پاکستان بٹگرام: الائی میں سردی اور پتھر لگنے سے ہلاکتیں25 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||