BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 October, 2005, 09:25 GMT 14:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الائی کا کیا ہوگا؟

وادی الائی
الائی میں پانچ ہزار کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور بیس سے پچیس ہزار زخمی ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع بٹگرام کی دشوار گزار تحصیل الائی کو باقی دنیا سے دو راستے ملاتے ہیں۔ دونوں راستے شاہراہ ریشم پر تھاکوٹ اور بشام پر اترتے ہیں۔
اس پوری تحصیل کی آٹھ یونین کونسلوں میں دور دراز پہاڑوں میں پھیلی آبادی ایک لاکھ چورانوے ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔

آٹھ اکتوبر کو جب زلزلہ آیا تو دونوں راستے پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں بند ہوگئے اور بجلی اور ٹیلی فون منقطع ہونے کے سبب اگلے چار روز تک کسی کو بھی معلوم نہ ہوسکا کہ اس علاقے پر کیسی قیامت گزر گئی۔ ساری کی ساری توجہ اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز، مظفر آباد اور بالا کوٹ پر مرکوز رہی۔

چار دن بعد چالیس سے زائد فوجیوں پر مشتمل پہلے امدادی دستے کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تحصیل ہیڈ کوارٹر بنہ پہنچایا گیا۔ فوج کے آنے سے پہلے بنہ میں واحد ڈاکٹر سربلند خان تھے جو بنیادی مرکزِ صحت کے انچارج تھے۔انہوں نے بتایا کہ ادھر ادھر جو لاشیں پڑی ہوئی تھیں ان کے دفنانے کے لیے لوگوں کے پاس کفن تو درکنار ایسے کپڑے بھی نہیں تھے جن میں لپیٹ کر انہیں قبروں میں اتارا جاتا کیونکہ سب کچھ ملبے میں تھا۔ لوگوں میں نئی قبریں کھودنے کی سکت تک نہیں تھی۔ لہذا ان لاشوں کو پرانی قبریں کھول کھول کر دفنایا گیا۔

الائی میں تباہ شدہ مکان

زخمیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اور سربلند خان سرجن نہیں تھے لہذا انہوں نے بیرونی امداد آنے تک یہ بندوبست کیا کہ جو فریکچر کے مریض ہوتے انکی ٹانگوں اور بازؤں کو سیدھا رکھنے کے لیے سبزی اور پھلوں کی پیکنگ میں استعمال ہونے والی پیٹیوں کے پھٹوں کو توڑ توڑ کر انہیں مریضوں کی ٹانگوں اور بازؤں سے باندھ دیا جاتا اور پھر انہیں صحت مرکز کے سامنے والے کھیت میں لٹا دیا جاتا۔

جب بارش کا سلسلہ شروع ہوا تو صحت مرکز کی ٹوٹی ہوئی عمارت میں جو تھوڑی بہت دوائیں اور ڈریسنگ کی پٹیاں موجود تھیں وہ بھی بھیگ کر ضائع ہونے لگیں۔ بقول ڈاکٹر سربلند خان انکے سامنے ایسے کوئی پندرہ مریضوں نے دم توڑا جنہیں بروقت مدد سے بچایا جا سکتا تھا۔

 میں نے تئیس اور چوبیس کی درمیانی رات الائی میں گزاری۔ رات آٹھ بجے سے صبح دس بجے تک زمین ہر پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد جھٹکے لی رہی تھی اور ان میں سے تین جھٹکے تو اس قدر شدید تھے کہ سامنے کی میز نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ میری یہ کیفیت تھی جیسے کسی نے اوپر سے نیچے تک دھلے ہوئے کپڑے کی طرح جھٹک دیا ہو
وسعت اللہ خان

لوگوں کے پاس کھانے کو بہت کم بچا تھا ۔ مکئی کی تیار فصل کھیتوں میں تھی کچھ اس فصل سے، کچھ دوکانوں کے ملبے میں موجود چاول اور آٹے سے اور کچھ زخمی جانوروں کو ذبح کر کے گزارہ ہوا۔

جوں جوں دن گزرتے گئے لوگوں میں غصہ بے بسی کی جگہ لینے لگا۔چنانچہ تحصیل ہیڈ کوارٹر بنہ جہاں زلزلے سے دو سو کے لگ بھگ لوگ ہلاک اور ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔ جب وہاں بارہ تاریخ کو پہلے ہیلی کاپٹر نے اترنے کی کوشش کی تو کچھ جوشیلے اس کی جانب پتھر لے کر دوڑے لیکن اگلے دن سے امدادی سلسلے میں کچھ ربط آنے سے مقامیوں کو تھوڑی سی امید بندھ چلی۔

رفتہ رفتہ تباہی کی تفصیلات سامنے آنے لگیں۔سب سے زیادہ جانی نقصان راشنگ اور گنگووال کے علاقے میں ہوا جہاں اب تک ایک ہزار بیس افراد کے مرنے اور پانچ ہزار سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو سکی۔اسکے بعد بٹکول ، بیاری، پشتو،سکرگاہ، بٹیلہ اور جمبیرہ کے علاقے آتے ہیں۔ کل ملا کر پانچ ہزار کے لگ بھگ ہلاکتوں اور بیس سے پچیس ہزار زخمیوں کا اندازہ ہے۔اٹھانوے فیصد کے قریب مکانات ختم ہوچکے ہیں اور زیادہ تر لوگ پتوں لکڑیوں اور گرنے والی ٹین کی چھتوں کو ٹوٹی ہوئی دیواروں کے پتھروں کو دوبارہ ایک دوسرے پر رکھ کر انکے نیچے سرد ہواؤں سے پناہ لیے ہوئے ہیں۔

 ہیلی کاپٹرز صرف دو ہزار کے لگ بھگ خیمے اور پندرہ ٹن رسد لانے میں کامیاب ہو سکے تھے جبکہ اس عرصے کے دوران صرف ساڑھے چھ سو زخمیوں کو علاج کے لیے نیچے کے شہروں میں منتقل کیا جا سکا۔

بٹگرام سے الائی آتے اور جاتے ہوئے فضا سے دیکھا جائے تو آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر موجود بستیوں میں ٹوٹی ہوئی لکڑیوں اور دیواروں کے بکھرے ہوئے پتھروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ عورتیں،بچے اور بوڑھے سر پر سے گزرتے ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر ہاتھ اور کپڑے لہراتے ہیں اور چند ہی سیکنڈ بعد ہیلی کاپٹر کو پرچھائیں میں بدلتے دیکھ کر یہ ہاتھ وہیں ساکت رہ جاتے ہیں۔

یہ وہ علاقے ہیں جہاں نومبر کے پہلے ہفتے میں برفباری کا آغاز ہوجاتا ہے اور اکثر علاقوں میں آٹھ سے دس فٹ برف پڑتی ہے۔

کیا ان لوگوں تک بروقت امداد پہنچ پائےگی یا ان کو ان خیمہ بستیوں تک لایا جا سکےگا جو اس علاقے میں بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور فرض کریں انہیں خیمے مل بھی گئے تو کیا اپنے زخمیوں کے ساتھ یہ سردیاں گزار پائیں گے۔

بنہ میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن کے جنیوا سے آئے ہوئے عہدیدار مطیع اللہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ صرف الائی میں کم ازکم تئیس ہزار خیموں کی ضرورت ہے اور چونکہ سڑک کے راستے یہ علاقے کٹا ہوا ہے اس لیے انکی تنظیم روزانہ فضائی راستے سے صرف ایک سو ساٹھ خیمے پہنچا سکتی ہے جبکہ الائی میں فوج کی امدادی ٹیم کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل زکیر احمد عباسی نے بھی اعتراف کیا کہ صرف ہیلی کاپٹرز کے ذریعے وقت سے پنجہ آزمائی نہیں ہوسکتی۔

بستی میں ٹوٹی ہوئی لکڑیوں اور دیواروں کے بکھرے ہوئے پتھروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے

اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ فوج کے اس علاقے میں آنے کے بارہ روز بعد تک ہیلی کاپٹرز صرف دو ہزار کے لگ بھگ خیمے اور پندرہ ٹن رسد لانے میں کامیاب ہو سکے تھے جبکہ اس عرصے کے دوران صرف ساڑھے چھ سو زخمیوں کو علاج کے لیے نیچے کے شہروں میں منتقل کیا جا سکا۔ گزشتہ دو روز میں علاقے میں رسد لانے اور دو چار زخمی لے جانے کے لیے چھ ہیلی کاپٹر اترے۔ان میں ایک جاپانی فوجی ہیلی کاپٹر بھی تھا جو اپنے ساتھ دو خیمے، دو پیٹی دوا اور منرل واٹر کے دو کارٹن لایا۔

امریکی چنوک ہیلی کاپٹروں کو متاثرہ علاقے میں سامان اتارنے کے بجائے بلندی سے سامان گرانے میں زیادہ دلچسپی ہے۔اس کے نتیجے میں اسّی فیصد گرایا جانے والا سامان یا تو پھٹ کر بکھر جاتا ہے یا پھر گہری کھائیوں میں غائب ہوجاتا ہے۔

اب تک جو خیمے آئے ہیں وہ کسی کو انفرادی طور پر نہیں دیے جا رہے بلکہ ان سے الائی کے مختلف علاقوں میں بیس سے پچاس خیموں پر مشتمل پونے تین سو خیمہ بستیاں قائم کرنے کا منصوبہ ہے لیکن چوبیس اکتوبر تک صرف بائیس خیمہ بستیاں ہی قائم ہوسکی تھیں لیکن متاثرہ لوگ ان میں بھی بڑی مشکل سے منتقل ہونے پر آمادہ ہیں۔

نوے فیصد متاثرین کی خواہش ہے کہ جہاں ان کا گھر ہے خیمہ بھی وہیں دیا جائے۔ فوج کہتی ہے کہ ہم ان لوگوں کو خیمے نہ دے کر پہاڑوں سے نیچے کم بلندی پر قائم خیمہ بستیوں میں آنے پر مجبور کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں مگر خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر متاثرہ لوگ یہ حکمتِ عملی بروقت نہ سمجھ پائے تو ان میں سے اکثر اکڑ کے مر جائیں گے۔

اس سے بھی زیادہ گمبھیر چیلنج مسلسل جھٹکوں کا ہے۔ میں نے تئیس اور چوبیس کی درمیانی رات الائی میں گزاری۔ رات آٹھ بجے سے صبح دس بجے تک زمین ہر پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد جھٹکے لی رہی تھی اور ان میں سے تین جھٹکے تو اس قدر شدید تھے کہ سامنے کی میز نے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ میری یہ کیفیت تھی جیسے کسی نے اوپر سے نیچے تک دھلے ہوئے کپڑے کی طرح جھٹک دیا ہو۔

ہر جھٹکے سے پہلے پہاڑ میں ایسا دھماکہ ہوتا تھا جیسے کہیں توپ کا گولہ پڑا ہو اور اس کی دھمک کے اثر سے زمین ہل گئی ہو۔ فوجیوں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے بعد سے یہ کیفیت مستقل ہے اور شدید جھٹکوں کے بعد آس پاس کے کئی پہاڑوں سے دھواں اور کبھی کبھی شعلہ بھی اٹھتا ہے۔ فضا سے دیکھا جائے تو کئی پہاڑ آپ کو پھٹے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔

ان جھٹکوں کا اثر یہ ہوا کہ الائی تھاکوٹ روڈ جس کے کھلنے کی خوشخبری چار گھنٹے پہلے سنائی گئی تھی دوبارہ پتھر گرنے کے سبب پانچ مقامات سے بند ہوگئی۔ جبکہ اس سڑک کو کھولنے میں تین دن کی مسلسل محنت اور چودہ فوجی اور غیر فوجی کارکنوں کی جانیں کام آئی تھیں۔

ان حالات میں مقامی ریلیف کمانڈر نے اپنی ہائی کمان کو یہ مشورہ دیا ہے کہ یہاں سے بیشتر آبادی کو ہنگامی طور پر مانسہرہ، ایبٹ آباد اور حویلیاں کے قریب عارضی طور پر ہرصورت میں منتقل کیا جائے۔کیونکہ سڑک کے کھلنے پر مزید بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

الائی کا فضائی منظر

ہیلی کاپٹروں سے پوری امداد آ نہیں سکتی اور جو ملکی، فرانسیسی ، سوئس ، امریکی اور جاپانی غیرملکی میڈیکل ٹیمیں اپنے اپنے محدود وسائل کے ساتھ یہاں ہزاروں زخمیوں کی دیکھ بھال یا ان تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں، خراب ہوتے موسم اور زلزلے کے مسلسل جھٹکوں کے نتیجے میں امکان ہے کہ ایک دو ہفتے میں ہی رخصت ہو جائیں گی۔ اس صورتحال میں اگر پہاڑ نہ بھی پھٹے تو سردی مارڈالےگی۔

بقول فوجی ریلیف کمانڈر کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے دو ہفتے سے زیادہ کی مہلت نہیں ہے اور اگر گومگو کی کیفیت برقرار رہتی ہے تو پھر پچیس سے پینتیس فیصد متاثرین سے ہاتھ دھونے کے لیے ذہنی طور پر تیاری رہنا چاہیے۔

کیا الائی میں یہ سردیاں دو لاکھ میں سے پچاس ہزار بے چھت بچوں، عورتوں اور مردوں کو ہلاک کر ڈالیں گی۔ کاش یہ سارے اندازے غلط ہو جائیں۔

66وادیِ الائی میں زبردست تباہی کی نشانیاں
66اسلام آباد کی خیمہ بستی
66سردی کی آمد آمد آمد آمد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد