بٹگرام: الائی میں سردی اور پتھر لگنے سے ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں زلزلے سے شدید طور پر متاثر ہونے والے علاقے وادیِ الائی کے گاؤں میں سردی اور ’آتش فشانی کیفیت‘ کے شکار پہاڑوں سے گرے پتھر لگنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق الائی میں حالات انتہائی مخدوش ہیں کیونکہ یہ علاقے اب بھی ملک کے باقی حصوں سے کٹا ہوا ہے۔ ’آٹھ اکتوبر کو زلزلہ آنے کے بعد پانچ دن تک الائی میں کوئی امدادی کام نہیں ہو سکا تھا۔ پانچ دن بعد پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر الائی میں اترا تھا اور چند زخمیوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔‘ ’اب بھی تھاکوٹ سے الائی جانے والی تیس کلو میٹر لمبی سڑک بند ہے۔ اس سڑک کو کئی بار کھولنے کی کوشش کی گئی لیکن ہر بار یہ سڑک زمین کے کٹاؤ کے باعث بند ہو جاتی ہے۔‘ نامہ نگار کے مطابق اب تک الائی میں ہونے والا تمام تر امدادی کام ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیا گیا ہے۔ رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق الائی کے لوگ تسلسل کے ساتھ آنے والے زلزلے کے جھٹکوں اور پہاڑوں سے نکلنے والے دھوئیں کے باعث خوف میں مبتلا ہیں۔ ’ان لوگوں کو وادی سے نکالنا پڑے گا۔ لیکن ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کو وہاں سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ تمام زمینی راستے بند ہیں اور ہیلی کاپٹر صرف محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔‘ نامہ نگار کے مطابق ان کی چند فوجی حکام سے بات ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’آتش فشانی کیفیت‘ کے شکار پہاڑوں کے قریب واقع دو گاؤں گنتڑا اور بٹیلا کے رہائشیوں کو ہر صورت میں وہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ’حکام نے بناک نامی مقام پر ایک خیمہ بستی بنائی اور ان کی خواہش ہے کہ زلزلے کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو وہاں منتقل کیا جائے۔‘ رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق اب تک ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پشتو نامی گاؤں میں دو بچے سردی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے پاس خیمے نہیں تھے۔ اس کے ساتھ ہی ٹنڈول نامی گاؤں میں پہاڑ سے گرے پتھر لگنے سے دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس طرح کے کافی واقعات ہو رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے24 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||