BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 October, 2005, 00:58 GMT 05:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بٹگرام: الائی میں سردی اور پتھر لگنے سے ہلاکتیں
وادیِ الائی میں اب تک امدادی سامان صرف ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہی پہنچایا گیا ہے۔

صوبہ سرحد میں زلزلے سے شدید طور پر متاثر ہونے والے علاقے وادیِ الائی کے گاؤں میں سردی اور ’آتش فشانی کیفیت‘ کے شکار پہاڑوں سے گرے پتھر لگنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق الائی میں حالات انتہائی مخدوش ہیں کیونکہ یہ علاقے اب بھی ملک کے باقی حصوں سے کٹا ہوا ہے۔

’آٹھ اکتوبر کو زلزلہ آنے کے بعد پانچ دن تک الائی میں کوئی امدادی کام نہیں ہو سکا تھا۔ پانچ دن بعد پہلی بار ایک ہیلی کاپٹر الائی میں اترا تھا اور چند زخمیوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔‘

’اب بھی تھاکوٹ سے الائی جانے والی تیس کلو میٹر لمبی سڑک بند ہے۔ اس سڑک کو کئی بار کھولنے کی کوشش کی گئی لیکن ہر بار یہ سڑک زمین کے کٹاؤ کے باعث بند ہو جاتی ہے۔‘

نامہ نگار کے مطابق اب تک الائی میں ہونے والا تمام تر امدادی کام ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیا گیا ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق الائی کے لوگ تسلسل کے ساتھ آنے والے زلزلے کے جھٹکوں اور پہاڑوں سے نکلنے والے دھوئیں کے باعث خوف میں مبتلا ہیں۔

’ان لوگوں کو وادی سے نکالنا پڑے گا۔ لیکن ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کو وہاں سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ تمام زمینی راستے بند ہیں اور ہیلی کاپٹر صرف محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔‘

نامہ نگار کے مطابق ان کی چند فوجی حکام سے بات ہوئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’آتش فشانی کیفیت‘ کے شکار پہاڑوں کے قریب واقع دو گاؤں گنتڑا اور بٹیلا کے رہائشیوں کو ہر صورت میں وہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔

’حکام نے بناک نامی مقام پر ایک خیمہ بستی بنائی اور ان کی خواہش ہے کہ زلزلے کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو وہاں منتقل کیا جائے۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق اب تک ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پشتو نامی گاؤں میں دو بچے سردی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے پاس خیمے نہیں تھے۔

اس کے ساتھ ہی ٹنڈول نامی گاؤں میں پہاڑ سے گرے پتھر لگنے سے دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس طرح کے کافی واقعات ہو رہے ہیں۔

66خیمے بنانے کا چیلنج
مزدوروں کی اکثریت متاثرہ علاقے سے ہے
66وادیِ الائی میں زبردست تباہی کی نشانیاں
66 ہر گھر کی ایک کہانی
سندوری ڈبریاں کے ہر کنبے کی ایک ہی داستان
66رضائی مہنگی ہو گئی
متاثرین کے لیےمانگ بڑھتے ہی قیمت آسمان پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد