زلزلے سے رضائیاں بھی مہنگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ افراد کو سرد موسم سے بچانے کی خاطر امدادی تنظیمیں آج کل انہیں رضائیاں مہیا کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں لیکن مانگ میں اضافے سے ان رضائیوں کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ سرحد میں رضائیاں تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ قیمت میں یہ اضافہ منافع خوری نہیں بلکہ رضائیاں تیار کرنے کا سامان مہنگا ہوگیا ہے۔ صوبائی دارلحکومت پشاور میں رضائی فروش تنظیم کے عہدیداروں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں۔ تنظیم کے چیئرمین امداد خان نے کہا کہ’ کیا ہم مسلمان نہیں، کیا ہمارے سینے میں دل نہیں؟ ہم کیوں ایسا کر سکتے ہیں‘۔ پشاور کے ڈبگری بازار میں اس وقت بیس بڑے تاجر زلزلے زدگان کے لیے رضائیوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔ چھوٹے موٹے دوکاندار اس کے علاوہ ہیں۔ رضائیوں کے یہ آرڈر پشاور کے مضافات اور دیہات میں عورتیں گھروں پر چوبیس چوبیس گھنٹے کام کرکے پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ رضائیوں کے دوکانداروں نے معیار کی کمی کی شکایت کی بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہی چیز تیار کر کے دیتے ہیں جس کا گاہک مطالبہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر وہ اچھے معیار کی مانگتا ہے تو ہم اچھی چیز فراہم کرتے ہیں اور اگر وہ محض چل چلاؤ والی چیز مانگتے ہیں تو ہم وہ بھی مہیا کرتے ہیں۔ اس میں ہمارا قصور نہیں‘۔ امداد خان نے کہا کہ بڑی سرکاری اور غیرسرکاری تنظیمیں تو پورے بازار میں نرخ معلوم کرکے ٹینڈر کے ذریعے آڈر دیتی ہیں لیکن چند افراد پر مشتمل چھوٹی موٹی تنظیمیں ٹرک بھرنے، اس پر بینر لگانے اور اخبار میں تصویر شائع کرانے کی غرض سے کم قیمت کی رضائیاں تیار کرواتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تو گاہک کی خواہش کے مطابق کام کرتے ہیں‘۔ ایک دوسرے دوکاندار سلیم شاہ نے کہا کہ’اس مصیبت کی گھڑی میں کوئی بھی مسلمان ایسا کام نہیں کرسکتا جو ان لوگوں کی تکالیف میں اضافے کا سبب بنے‘۔ انہوں نے کہا کہ اسی بازار میں چارپائیوں کا کاروبار بھی ہوتا ہے اور اس کاربار سے وابستہ لوگ ان پر الزام لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ان لوگوں کا کاروبار آج کل آف سیزن ہے۔ رضائی کے کاروبار میں بہتری دیکھ کر وہ ہمارے خلاف غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں‘۔ قیمتوں میں اضافے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ رضائی کا تمام سامان پنچاب سے آتا ہے۔ ’اب وہاں سے ہمیں کپڑا اور روئی مہنگی مل رہی ہے تو ہم کیا کریں۔ پھر ٹرکوں کے کرایوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہم یہ اضافی اخراجات قیمت میں نہ ڈالیں تو کیا کریں‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ زلزلے سے کاروبار میں اضافہ صرف انہیں کے لیے نہیں بلکہ مزدوروں اور سپلائی کرنے والی خواتین کے لیے بھی ہوا ہے۔ وہ سب کوشش کر رہے ہیں کہ آڈرز کو جلد از جلد پورا کر سکیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف پشاور سے اب تک بارہ ہزار سے زائد رضائیاں زلزلہ زدگان کے لیے تیار کر کے بھیجی جاچکی ہیں جبکہ مزید تیس ہزار کے آڈر کی توقع کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں تیس لاکھ بےگھروں کے لیے تیس ہزار خیمے24 October, 2005 | پاکستان ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے24 October, 2005 | پاکستان اتنےخیمے کہاں سے آئیں گے؟23 October, 2005 | پاکستان ہر پانچ میں سے دو مکان تباہ: حکام23 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||