تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تیس لاکھ بے گھر افراد کو پناہ فراہم کرنے کے لیے اب تک صرف تیس ہزار خیمے پہنچائے جا سکے ہیں جبکہ اس علاقے میں تین لاکھ پچاس ہزار خیموں کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ریلیف کو آرڈینیٹر راشد خالیکوف نے کہا ہے کہ زلزلے کے دو ہفتے بعد بھی صرف مظفرآباد میں آٹھ لاکھ افراد بےگھر ہیں ۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں سرد موسم کا آغاز ہونے والا ہے اور زلزلے کے دوہفتے بعد تک تقریباً دو ہزار دیہات ایسے ہیں جہاں تک مکمل رسائی نہیں ہو سکی ہے اور خدشہ ہے کہ ان دیہات کے رہائشی افراد سخت سردی کا شکار ہو کر ہلاک نہ ہو جائیں۔ ان علاقوں میں امداد پہنچانا اس وقت تک نہایت مشکل ہے جب تک سڑکوں کی تعمیرِ نو کا م مکمل نہیں ہوتا اور کہا جا رہا ہے کہ اس کام کی تکمیل میں متعدد ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اسلام آباد سمیت زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں میں اتوار کی شام ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ان جھٹکوں کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ تھی تاہم ان سے کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی۔ اگرچہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تین چنوک ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ سکے ہیں اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جان ابی زید نے بھی مزید پچیس ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مگرامدادی تنظیموں کے مطابق امدادی ہیلی کاپٹروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود اب بھی زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنا یا وہاں امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ امدادی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے عالمی امداد کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ارشد خالیکوف نے کہا ہے کہ’ یہ لازم ہے کہ امداد دینے والے ممالک جلد از جلد اس کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے پاس چھ ہفتے کا وقت ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ہم یہ کام کر پائیں گے بھی یا نہیں مگر ہمارے پاس آج سے صرف چھ ہفتے ہیں‘۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راجکوٹ کے فرید ایوب کا کہنا ہے کہ ان کا علاقے میں امداد تیرہویں دن پہنچی۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کا گاؤں مظفرآباد سے دو دن کے پیدل سفر پر ہے مگر ہیلی کاپٹر سے وہاں دس منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ عالمی برادری نے اب تک صرف چھ سو بیس ملین ڈالر امداد دی ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان: زلزلوں کے مزید جھٹکے24 October, 2005 | پاکستان بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان ہمیں امداد چاہیے، جہاں سے بھی آئے24 October, 2005 | پاکستان ’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘23 October, 2005 | پاکستان ’امریکہ 25 اور ہیلی کاپٹر بھیجے گا‘23 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||