BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 October, 2005, 06:56 GMT 11:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیس لاکھ بےگھر، 30 ہزار خمیے
خیموں میں رہنے والے متاثرین
زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک رسائی یا وہاں امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے

امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تیس لاکھ بے گھر افراد کو پناہ فراہم کرنے کے لیے اب تک صرف تیس ہزار خیمے پہنچائے جا سکے ہیں جبکہ اس علاقے میں تین لاکھ پچاس ہزار خیموں کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ریلیف کو آرڈینیٹر راشد خالیکوف نے کہا ہے کہ زلزلے کے دو ہفتے بعد بھی صرف مظفرآباد میں آٹھ لاکھ افراد بےگھر ہیں ۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں سرد موسم کا آغاز ہونے والا ہے اور زلزلے کے دوہفتے بعد تک تقریباً دو ہزار دیہات ایسے ہیں جہاں تک مکمل رسائی نہیں ہو سکی ہے اور خدشہ ہے کہ ان دیہات کے رہائشی افراد سخت سردی کا شکار ہو کر ہلاک نہ ہو جائیں۔

ان علاقوں میں امداد پہنچانا اس وقت تک نہایت مشکل ہے جب تک سڑکوں کی تعمیرِ نو کا م مکمل نہیں ہوتا اور کہا جا رہا ہے کہ اس کام کی تکمیل میں متعدد ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اسلام آباد سمیت زلزلے سے متاثرہ دیگر علاقوں میں اتوار کی شام ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ان جھٹکوں کی شدت ریکٹر سکیل پر چھ تھی تاہم ان سے کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی۔

اگرچہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تین چنوک ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچ سکے ہیں اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جان ابی زید نے بھی مزید پچیس ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مگرامدادی تنظیموں کے مطابق امدادی ہیلی کاپٹروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود اب بھی زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں تک پہنچنا یا وہاں امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

امدادی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلہ زدگان کے لیے عالمی امداد کی فراہمی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوارڈینیٹر ارشد خالیکوف نے کہا ہے کہ’ یہ لازم ہے کہ امداد دینے والے ممالک جلد از جلد اس کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہمارے پاس چھ ہفتے کا وقت ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ہم یہ کام کر پائیں گے بھی یا نہیں مگر ہمارے پاس آج سے صرف چھ ہفتے ہیں‘۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راجکوٹ کے فرید ایوب کا کہنا ہے کہ ان کا علاقے میں امداد تیرہویں دن پہنچی۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کا گاؤں مظفرآباد سے دو دن کے پیدل سفر پر ہے مگر ہیلی کاپٹر سے وہاں دس منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہے جبکہ عالمی برادری نے اب تک صرف چھ سو بیس ملین ڈالر امداد دی ہے۔

66خیمے بنانے کا چیلنج
مزدوروں کی اکثریت متاثرہ علاقے سے ہے
66خیموں میں رہائشی متاثرین کی زندگی
66سرما کی آمد، امداد کی تلاش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد