’مظفر آباد میں 8 لاکھ افراد بےگھر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ریلیف کو آرڈینیٹر راشد خالیکوف نے کہا ہے کہ زلزلے کے دو ہفتے بعد بھی صرف مطفرآباد میں ہی آٹھ لاکھ افراد بےگھر ہیں ۔ ادھراتوار کی رات شدید متاثرہ علاقوں میں ایک مرتبہ پھر زلزلے کے سخت جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کے جھٹکے کی شدت پانچ اعشاریہ نو ریکارڈ کی گئی ہے۔ مظفر آباد میں اقوام متحدہ کے ریلیف کواڈینیٹر نے بتایا کہ دنیا کو اب زلزلے سے آنے والی تباہی کا احساس ہونا شروع ہو گیا اور زلزلہ سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے مزید ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ زلزلے کو آئے دو ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک زلزلہ سے متاثرین تک پہنچے میں کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔ ادھر صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے بری طرح متاثرہ پانچ اضلاع میں ایک سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے دو مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔ سرکاری املاک کو زلزلے سے پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ گیارہ ارب روپے سے زائد بتایا جا رہا ہے۔ صوبہ سرحد کے پانچ شمالی اضلاع میں زلزلے سے اڑتیس ہزار جانوں کا نقصان تو ہوا ہی ہے، اس تباہ کن زلزلے نےمکانات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک سرکاری سروے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ اور ضلع بٹ گرام کی بٹ گرام اور الائی تحصیلوں میں ہوا جہاں تقریبا نوے فیصد مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ اس طرح شانگلہ اور کوہستان میں پچاس فیصد مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ ایبٹ آباد میں یہ تناسب کم ہو کر پندرہ فیصد رہا۔ الائی سے زمینی رابطے دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی منقطع ہیں۔ وہاں سے واپس لوٹنے والی امدادی ٹیم کے رکن ڈاکٹر علی بخاری نے تباہی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو فیصد مکانات ہی بچ پائے ہیں۔ ان کے مطابق ایک دیہاتی ہیلتھ سنٹر، چھ بی ایچ یوز، نو ہائر اور بارہ مڈل سکول تباہ ہوچکے ہیں۔ جہاں عام آدمی مکان تباہ ہونے کی وجہ سے خیموں میں رہنے پر مجبور ہے وہیں سرکاری دفاتر بھی خیموں میں قائم کیے گئے ہیں۔ یہ اعداوشمار تو صرف مکمل تباہ شدہ مکانات کے ہیں اور خیال ہے کہ جزوی طور پر تباہ ہونے والے مکانات کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ ان مکانات کے لوگ بھی مسلسل محسوس کیے جانے والے جھٹکوں کی وجہ سے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں شہر کے شہر دوبارہ بسانا حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||