مظفر آباد:سکول کھلنا شروع ہو گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کو زلزلہ سے تباہی کے بعد مظفر آباد میں زندگی دوبارہ معمول پر آنی شروع ہو گئی ہے اور کچھ پرائیوٹ سکول دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ مظفر آباد سے بی بی سی کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز ایک پاکستانی ادارے دیوان سلمان فائبر کے تعاون سے پہلا خیمہ سکول کھولا گیا ہے جس میں پہلے روز صرف ایک ٹیچر ہے۔ سکول کے ٹیچر کا کہنا ہے کہ اس سکول میں پہلی سے لے کر چھٹی جماعت کے بچوں کو پڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے روز تمام بچوں کو ایک ہی جگہ بٹھایا گیا ہے لیکن اگلے روز باقاعدہ پڑھائی شروع کی جائے گی۔ اور بچوں کو کتابیں اور دوسرا سامان مہیا کر دیا جائے گا۔ سکول کی ایک بچی اقرا نے بتایا کہ زلزلے کے روز ان کا سکول مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا تھا اور ان کو دوبارہ سکول میں آ کر بہت مزہ آ رہا ہے۔ اقرا نے بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے روز ان کا سکول مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا تھا اور وہ کمروں سے باہر میدان میں نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔اقرا نے بتایا کہ اس کو اپنی سہلیوں سے مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ایک اور لڑکی ردا نے بتایا کہ زلزلے کے وقت وہ پانی پی رہی تھیں فور وہ زلزلے کے خوف سے بے ہوش ہو گئی تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیچر نے ان کو پانی پلا کر ہوش میں لائی ’اور پھر میری امی سکول پہنچ گئیں‘ سکول کھلنے کے علاوہ شہر کے کچھ علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے اور کسی حد تک ٹیلی فون کی سہولت بھی بحال ہو گئی ہے۔ کچھ دکانیں کھل گئی ہیں جہاں لوگ خرید فروخت کرتے دیکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے چلنے کے ساتھ ساتھ اخبارات بھی مظفر آباد پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||