’پہلے زلزلہ اور اب شیر اور سانپ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع مانسہرہ کی تحصیل اُگی جو کہ غالباً وہاں کا سب سے خوبصورت علاقہ ہے اس کی آبادی بیس ہزار ہے اس میں بہت سارے گاؤں واقع ہیں۔ دو ہفتے پہلے تک یہ وادی جنت کا نمونہ تھی لیکن اب یہ یہاں رہنے والوں کے لیے ایک طرح کا جہنم بن چکی ہے۔ پینے کو پانی نہیں، کھانے کو روٹی نہیں، سر پر چھت نہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں۔ قیامت خیز زلزلے نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی طرح صوبہ سرحد کے اس علاقے کی بھی خوشیاں چھین لیں ہیں۔ یہاں رہنے والے ایک ریٹائرڈ فوجی اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ پلک جھپکتے میں زندگی بدل گئی ہے۔ اعجاز یہاں ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ تھے۔ اس تنظیم کا دفتر اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اس سے وابستہ لوگ ابدی نیند سو چکے ہیں۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ نہ قدرت پر اعتماد رہا ہے اور نہ ہی انسان پر۔ ’بھوکے پیٹ کتنی دیر تک ملبوں سے لاشیں نکالیں گے اور بغیر کفن کے عام استعمال کے پھٹے پرانے کپڑوں میں دفنائیں گے‘۔ گیلی مٹی میں دھنسے کسی گھر کے درواذے پر کھڑے گری ہوئی دیواروں کی اینٹوں کے بے ترتیب ڈھیر میں گھرے اعجاز احمد نے کڑویلے لہجے میں کہا: ’کدھر ہے فوج، جس کی میں نے تیس سال خدمت کی۔ یہاں کی مقامی انتظامیہ اور اس کے کمزور دفتر تو زلزلے کا لقمہ بن گئے مگر ہماری فوج جو یہاں سے کوئی زیادہ دور نہیں اور دہشتگردوں کا مقابلہ کررہی ہے وہ ہماری دہشت دور کرنے کیوں نہیں آتی‘۔ اُگی ایک سرسبز پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ کاشتکاری سے اپنی روزی کماتے ہیں جب کہ کچھ مانسہرہ جاکر مزدوری سے پیٹ پالتے ہیں۔ زلزلے سے یہاں تقریباً دو سو کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔ یہ علاقہ مالی اعتبار سے تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ اِکا دُکا ہی مکان کھڑے ہیں مگر دراڑیں پڑجانے کے باعث گویا تابوت میں بدل چکے ہیں۔ خیموں کی کمی کے باعث عورتیں اور بچے اکھٹے ہیں بلکہ مرد گرے ہوئے مکانوں کے ملبوں سے لاشیں ڈھونڈنے اور کار آمد سامان تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اُن کے چہروں پر ایک عجیب کیفیت کاعکس ہے جب خوف ،غصہ اورغصہ بے بسی میں بدلتا ہے۔ دوائیوں کی کمی کے باعث ان میں سے کئی زخمیوں کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ واحد اُمید کی کرن چند بچے ہیں جو زلزلے کی نوعیت سے نا آشنا ملبے کے ڈھیروں میں پکڑن پکڑائی کھیل رہے ہیں۔ اُگی کا ایک گاؤں بانڈے صادق ہے۔ پینتس سو افراد پر مشتمل یہ گاؤں کسی پتھر کے عہد کی عکاسی کرتاہے۔ یہاں بھی کوئی گھر تباہی سے نہیں بچا۔ یہاں بھی لوگ لاشیں ڈھونڈنے اور اپنی زندگی سمیٹنے کے عمل میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ وہی بے بسی کا عالم، وہی اُمید کا فقدان۔ راضیہ سلطانہ جو کہ کراچی میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں چند سال قبل بیاہ کر یہاں آئیں تھیں۔ یہاں پر اب وہ بغیر چھت کے جینا سیکھ رہی ہیں. زندگی کے اس نئے امتحان نے اُن سے ان کی بزرگ ساس چھین لی اور دو بچوں کو زخمی کر دیا ہے۔ راضیہ سلطانہ کی زندگی میں سب سے بڑاخوف نہ رکنے والے زلزلے کے مسلسل جھٹکے ہیں۔ ’نہیں باجی، اس علاقے میں شیر اور سانپ بھی بہت زیادہ ہیں۔ بچے قابو آتے نہیں اور ہمیں خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں شیر آکر انہیں لے نہ جائے۔ گھر تو کوئی بچا نہیں جہاں ہم چھپ جائیں۔ پرسوں یہاں ایک شیر دکھائی دیا تھا جسے ہمارے آدمیوں نے ڈرا بھگایا مگر اسکا کیا پتہ وہ کسی رات کو آ دھمکے۔ مجھے تو اب زلزلے کے ساتھ ساتھ شیر اور سانپ سے ڈر لگتا ہے‘۔ ابھی راضیہ سلطانہ بات کر ہی رہی تھیں کہ ہماری عقب سے کچھ شور اُٹھا. دو آدمی زمین پرزور زور سے اینٹیں مار رہے تھے۔ قریب جا کردیکھا تو تقریباً ڈیڑھ فٹ لمبا سانپ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||