BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 October, 2005, 21:48 GMT 02:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مریضوں کی مشکلات

متاثرین کے لیے بنایا گیا کیمپ
زخمی کشمیری سمیر اپنی ماں رضیہ بی بی کے ساتھ اسلام آباد کے کیمپ میں بیٹھا ہے
پاکستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد نقل مکانی کر کے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والے متاثرین کو کیمپوں میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

جڑواں شہروں کی بعض سرکاری عمارتوں میں رہائش پذیر سینکڑوں مرد اور خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ موجود ہیں۔ ان کا حکومت اور امدادی تنظیموں کے انتظامات کے بارے میں ملا جلا رد عمل ہے۔

دونوں شہروں کے ہسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریض ہونے کی وجہ سے کئی زخمیوں کو عارضی کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے۔

آبپارہ کے کمیونٹی سینٹر کے ہال میں بیس سے زیادہ مریض موجود ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کے بازؤں اور ٹانگوں میں فریکچر ہیں۔ ترکی کی ایک امدادی تنظیم خباب کے زیرانتظام اس کیمپ میں مجموعی طور پر دو ہزار متاثرین ہیں۔

کیمپ کے باہر بیٹھی ہوئیں شمیم بیگ نے بتایا کہ وہ یہاں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئیں ہیں اور وہ ساتھ سرکاری فلیٹس میں رہتی ہیں۔ ان کے مطابق فلیٹس میں بجلی، گیس اور پانی کی سہولت موجود نہیں ہے اور انہیں خاصی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان ہی کے ساتھ بیٹھی ہوئیں نوجوان عائشہ کی رائے بھی ان سے ملتی جلتی تھی اور انہوں نے کہا کہ حکومت سے زیادہ ان کی ضروریات کا خیال غیر سرکاری تنظیموں والے رکھتے ہیں۔

خیمہ بستی
اسلام آباد کے سیکٹرایچ ایٹ میں ایک خیمہ بستی قائم کی جا رہی ہے جس میں چار ہزار متاثرہ افراد کو رکھا جائے گا۔

جہلم وادی کے ایک گاؤں سے آئے ہوئے محمد سلیم نے کہا وہ بچوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔ ان کے مطابق چھوٹے بچے روزہ نہیں رکھتے اور انہیں پورا دن کھانا نہیں ملتا اور وہ روتے ہیں۔

جب آبپارہ کمیونٹی سینٹر کے ہال میں پہنچے تو کشمیر کے ضلع باغ سے آئے ہوئے ایک زخمی نے، جس کی دائیں ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا ہوا تھا، کہا کہ جو مریض شدید تکلیف کی وجہ سے روزہ نہیں رکھتے اور دوائیاں بھی کھا رہے ہیں، انہیں کھانا نہیں ملتا اور پورے دن میں صرف ایک پیالی چائے ملتی ہے۔

لیکن اسی ہال میں موجود ضلع باغ کے ہی ایک اور زخمی جن کی ٹانگ دوکان کی چھت گرنے سے ٹوٹی تھی انہوں نے اپنے ساتھی کے برعکس موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں نے ان کا بڑا خیال رکھا ہے اور انہیں کوئی شکوہ نہیں۔

متاثرین کے لیے بنایا گیا کیمپ
اسلام آباد میں متاثرین کے لیے بنائے گئے عارضی کیمپ میں زلزلہ زدگان رہ رہے ہیں

خباب کے کیمپ میں موجود رضاکار شہزاد نے بتایا کہ ان کے زیرانتظام اس کیمپ میں روزانہ دو ہزار افراد کو کھانا پینا مفت ملتا ہے۔ انہوں نے کمیونٹی سینٹر کے ہرے بھرے میدان میں لگے خیموں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہاں موجود تمام متاثرین کو کمبل، رضائیاں وغیرہ فراہم کی گئی ہیں۔

شہزاد احمد نے بچوں کو کھانا نہ دینے کے متعلق کہا کہ یہ الزام ٹھیک نہیں اور وہ بچوں کو بسکٹ اور جوس کے پیکٹ روزانہ دیتے ہیں۔ تاہم انہوں نے شکایت کی کہ آس پاس سے متاثرین آتے ہیں اور اس کیمپ میں گھس کس سامان لے جاتے ہیں۔

کمیونٹی سینٹر کے میدان میں ربڑ کی بال سے جہاں بچے کھیلتے کودتے نظر آئے وہاں بعض خواتین قالین پر بیٹھے ہوئے موبائیل فون پر باتیں کرتی بھی دکھائی دیں۔

کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر سید مصطفین کاظمی جو متاثرین کے لیے چیف رابطہ افسر بھی مقرر ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بری امام اور گولڑہ شریف کی درگاہوں پر بھی کئی متاثرہ خاندان موجود ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر کشمیر کے مختلف علاقوں سے لوگ آئے ہیں۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں ایک خیمہ بستی قائم کی جارہی ہے اور اس میں چار ہزار تک متاثرہ افراد کو رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق مختلف عارضی کیمپوں اور سرکاری عمارتوں میں رہائش پزیر زلزلہ زدگان کو سنیچر بائیس اکتوبر سے خیمہ بستی میں مرحلہ وار منتقل کیا جائے گا۔

66سی ڈی اے گھر دے
مارگلہ ٹاور کے مکین کہاں جائیں
66حاملہ خواتین کا کرب
ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کے لئے وارڈ نہیں
66چودہ دن گزر گئے
زلزلے کے چودہ دن بعد کی صورتحال تصاویر میں
66وادئ نیلم سے رپورٹ
’گھر واپس چلے جائیں، امداد ختم ہوچکی ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد