رولینڈ برک بی بی سی نیوز، اسلام آباد |  |
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آنیوالے زلزلے میں زخمی ہزاروں لوگوں کو اگر بروقت طبی امداد نہیں فراہم کی گئی تو انہیں موت کا خطرہ ہوسکتا ہے یا ان کے اعضاء کاٹنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ طبی ٹیمیں اب بھی ان دور دراز دیہاتوں میں زخمیوں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں جنہیں لگ بھگ دو ہفتے قبل آنیوالے زلزلے کے بعد سے کوئی امداد نہیں ملی ہے۔ اگرچہ ڈاکٹروں نے اونچے پہاڑوں پر سے زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچایا ہے تاہم جن کی مدد نہیں کی جاسکی انہیں انفیکشن کا خطرہ لاحق ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق سیری نامی گاؤں پہنچنے پر ڈاکٹروں کو انفیکشن کے سنگین واقعات دیکھنے کو ملے۔ ایک خاتون انفیکشن کی وجہ سے اپنی انگلی کھو بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ اور پیر سوج گئے تھے اور وہ اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ اسے سڑک پار کرانے کے لئے مدد کرنی پڑی۔ عالمی طبی امدادی ادارے میڈیسنس سانس فرنٹیئر کے لئے کام کرنے والے وِنس ہوئیٹ کہتے ہیں: ’یہ اچھی بات ہے کہ حکام، بالخصوص فوجی اہلکار، سنگین مریضوں کو کئی مقامات سے ہسپتالوں تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن جو پیچھے رہ گئے تھے، جو ابتدا میں کم زخمی تھے، اب انہیں ترجیح دینی پڑرہی ہے کیوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے فریکچر اور زخم زیادہ سنگین ہوگئے ہیں۔‘ میڈیسینس سانس فرنٹیئر کا کہنا ہے کہ آنے والی سردی میں ضرورت مندوں تک امداد پہنچانا مشکل ترین ہوجائے گا۔ مریضوں کے لئے بنائے جانے والے فیلڈ ہسپتالوں میں سردی سے بچاؤ کی اتنی سہولیات نہیں ہیں کہ شدید سردی کا سامنا کیا جاسکے۔ خصوصی طور پر تیار کیے گئے کیروسین تیل سے جلائے جانے والے اسٹوو والے خیموں کو ان علاقوں میں دسمبر میں برفباری شروع ہونے سے پہلے پہنچانا پڑے گا۔
|