’زلزلہ: تباہی بڑھتی ہی جا رہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلسل بڑھتی ہوئی اموات اور تباہی پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کا انتباہ پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے لیے امداد کے حصول اور تقسیم میں درپیش کثیر الجہتی مشکلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس زلزلے کے نتیجے میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 49 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ دو لاکھ گھر تباہ اور اندازاً تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس امداد کے حصول اور تقسیم کے پیچیدہ نظام کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’زلزلے کو آئے اب بارہواں دن ہے لیکن اس کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی ہے، وہ اب تک پوری طرح سامنے نہیں آ سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر دوسرے دن پاکستانی حکام ہلاک ہونے والوں کی تعداد مختلف بتاتے ہیں اور ہر بار اس میں چند ہزار کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ زلزلے سے متاثرہ حصوں میں بیس فیصد کے لگ بھگ علاقے اب بھی ایسے ہیں جن تک سڑکوں سے رسائی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔اس لیے حکومت کو کوئی اندازہ نہیں کہ وہاں کتنے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں یا امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے ہوں گے۔ اس صورتِحال کی وجہ سے مقامی حکام نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی امداد دینے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بعض لوگ امداد کی تقسیم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امداد صحیح لوگوں کو نہیں پہنچ رہی۔ پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد اس بات کو جزوی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ زیادہ مربوط نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ لیکن دوسرے پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ بنیادی امدادی اشیاء کی آمد کی سست رفتاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی تمام تر اپیلوں کے باوجو امداد دینے والوں نے صورتِ حال کو پوری طرح محسوس نہیں کیا اور متاثرہ افراد کے لیے موسمِ سرما میں درکار خیموں اور زندگی بچانے والی ادویات کی شدید قلت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اس مرحلے پر متاثرین کی آباد کاری کے لیے فنڈز کی بات نہیں کر رہا بلکہ خیموں، کمبلوں اور دواؤں کی فوری فراہمی کی بات کر رہا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ جس طرح امداد کے وعدے کیے گئے ہیں اور اس کے بعد امداد کی آمد ہوئی ہے اسے دیکھ کر سب بڑا سوال یہ پیدا ہوا ہے کے آیا ہمالیائی خطے میں موسمِ سرما کے پوری طرح شروع ہونے سے پہلے متاثرہ علاقوں تک اس امداد کی ترسیل ہو سکے گی؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||