خیموں کی قیمتیں بڑھ گئیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزے کے متاثرین کے لیے خیموں کی ضرورت پڑی تو خیموں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور ان کا معیار بھی گر گیا ہے۔ متاثرین کی بحالی کے لیے استعمال کیے جانے والے خیمے بنانے والے محمد یوسف عابد کا کہنا ہے کہ اس وقت جو خیمے علاقوں میں بھجوائے جا رہے ہیں وہ زیادہ تر غیرمعیاری ہیں کیونکہ یہ گلی محلوں میں تیار ہونا شروع ہوگئے ہیں حتی کہ پرانے کپڑوں کاکاروبار کرنے والے افراد نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے۔ محمد یوسف عابد کا کہنا ہے کہ ان نئے تیار کنندگان کو یہ علم ہی نہیں کہ 'بحالی خیمہ' ہوتا کیاہے وہ محض پیسے کمانے کے چکر میں خیمے بنانے لگے ہیں۔ یوسف عابد کے بقول بحالی خیمے اگر معیاری نہ ہوں تو ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحالی کیمپ کے لیے ضروری ہے کہ ایک خیمے کی کم از کم دو تہیں ہوں اور دونوں کا آپس میں کوئی آٹھ انچ کا فاصلہ ہو تاکہ گرمی سردی اور بارش سے بچاؤ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیموں کو کھڑا رکھنے والی چوب معیاری نہیں ہوگی تو خیمہ پہاڑ پر ٹک سکے گا اور نہ ہوا کے تھپیڑوں کا مقابلہ کر سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جو زیادہ تر خیمے سپلائی کیے جارہے ہیں وہ ناقص ہیں اور بارش، تیز ہوا یا موسم کی سختی سے نہیں بچا سکتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر معیاری خیموں کی تیاری اور انہیں وہاں بھجوانے کا سلسلہ روکا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت آفت زدہ علاقوں میں ڈھائی سے پانچ لاکھ خیموں کی فوری ضرورت ہے۔ پاکستان کینوس اینڈ ٹینٹ مینوفیکچرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نائب چئرمین ممتاز سبزواری کا موقف ذرا سا مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ اس وقت لاکھوں خاندان کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور فی الحال انہیں جیسے بھی خیمے مل جائیں انہیں غنیمت جانا جائے تاہم بعد میں انہیں معیاری خیموں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بعض مینوفیکچرز کا خیال ہے کہ دس روز تو کیا ایک ماہ میں بھی صورتحال بہتر ہوسکے گی نہ خمیوں کو فراہمی ضرورت کے مطابق ہوسکے گی جبکہ سردی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ایک ماہ بعد تو کڑاکے کی سردی پڑنا شروع ہوجائے گی۔ لاہور کے نواح میں تیس کلومیٹر فیروز پور روڈ پر واقع ایک فیکٹری کے مالک محمد یوسف عابد کوئی تیس سال سے ریلیف کیمپ (بحالی کیمپ) بنانے کا کاروبار کر رہے ہیں اور وہ بحالی کا کام کرنے والے صرف غیرملکی بین الاقوامی اداروں کو خیمے بنا کر دیتے ہیں۔ ان کی فیکٹری کی تینوں حصوں میں خیموں کی تیاری کا کام زوروں پر جاری ہے اور سلائی میشن لیے کاریگر خیمے جوڑنے میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پچیس ہزار خیمے تیار کرنے کا آڈر مل گیا ہےاور مزید پندر ہزار کا مطالبہ زیرغور ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اتنی جلدی اتنے خیمے تیار کرنا خاصا مشکل معاملہ ہے اور اگر وہ بہت بھی تیزی دکھائیں گے تو تین مہینوں میں مذکورہ آڈر پورا کر پائیں گے۔
اسی دوران محمد یوسف عابد فون پر کسی ٹرک کے مالک سے تکرار کرنا شروع ہوگئے فون بند کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ٹرک کے مالکان نے اپنے نرخ بڑھا دیے ہیں اور جو ٹرک تین روز پہلے تک لاہور سے اسلام آباد کے لیے ساڑھے چھ ہزار روپے میں مل جاتا تھا اب وہ ساڑھے دس ہزار روپے میں مل رہا ہے۔ انہوں نے اپنی کئی مشکلات کا ذکر کیا ان کے بقول میٹریل کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے جو کینونس پہلے صرف دو روپے اونس میں ملتا تھا اب وہ تین روپے اونس میں بھی دستیاب نہیں ہے۔ اسی طرح خمیوں کو کھڑا رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے لوہے کہ راڈ(چوب) مہنگے ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول اگرچہ انہوں نےمزدوروں اور کاریگروں کا معاوضہ تین گنا تک بڑھا دیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے کئی مزدور کام چھوڑ کر زیادہ معاوضے لینے کے لیے غیر معیاری خیمے تیار کرنے والوں کے پاس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کام بڑھ گیا ہے اس لیے انہوں نے معاوضہ بڑھا دیا ہے۔ کارخانے کے مالک محمد یوسف عابد نے بتایا کہ انہوں نے کارخانے میں چوبیس گھنٹے کام کا کہا ہے اور شائد ملک بھر کے پچاس سے زائد کارخانوں میں کام ہو رہا ہو تاہم ان کا کہنا تھا کہ شدید سردیوں تک زلزلے کے متاثرین کی خمیوں کی ضروریات کو پورا کرنا ایک انتہائی کٹھن کام ہے جو حکومت کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||