شدید موسم، لاعلاج زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ موسم کی شدت اور زخمیوں کو طبی امداد نہ ملنے سے علاقے میں موت کا ایک نیا دور شروع ہونے کی خدشہ ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق نہ صرف پاکستانی کشمیر بلکہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی لاکھوں افراد علاج کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ وہ لوگ جن کی جانیں بچ گئی ہیں لیکن جو زخمی ہیں، دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں یا پھر گہری وادیوں میں زخمی حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور انہیں کسی طرح کی کوئی طبی سہولت یا مدد دستیاب نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار اینڈریو میکلائیڈ کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کو سرد موسم میں پناہ فراہم کرنے کے لیے دنیا بھر میں دستیاب خیمے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں رسد پہنچانا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر ا قابو پانے کی جتنی کوشش کی جا رہی ہے وہ اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنے والا زلزلہ حالیہ وقتوں میں دنیا میں پیش آنے والے بڑے سانحوں میں سے ایک ہے۔
سونامی سے متاثرہ علاقوں سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بلند و بالا پہاڑ ہیں جبکہ سونامی سے ساحلی علاقے متاثرہوئے تھے جو ہموار ہوتے ہیں اور نقل و حمل آسان ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے جن علاقوں میں زلزلہ آیا وہاں دنیا کی گہری ترین کھائیاں اور بلند ترین برف پوش چوٹیاں ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کو امدادی کارروائیوں میں درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ رسد پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیمے اسلام آباد لے جانے اور مظفر آباد لے جانے میں بہت فرق ہے اور پھر مظفر آباد سے کسی پہاڑی گاؤں میں ان کو پہنچانا ایک بالکل دوسرا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'جب ہم مٹی کے تودے گرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک یا دو چٹانوں کی نہیں بلکہ چھ سے سات کلومیٹر تک پھیلے ہوئے پہاڑوں کے حصہ ہیں'۔ 'ہم ایسی سڑکوں کی بات کر رہے ہیں جن کو بنانے میں کئی سال لگیں گے۔ ایسے دیہات کی بات کر رہے ہیں جہاں ہیلی کاپٹر اتر ہی نہیں سکتے۔'
کشمیر کا موسم سرما خیموں میں گزارنا بہت سے لوگوں کی موت کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین کے انخلا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک چکر میں سولہ افراد لے کر جاتے ہیں۔ تیس لاکھ کو سولہ پر تقسیم کریں۔ ہیلی کاپٹروں کو کتنے چکر لگانا پڑیں گے؟ یہ قابل عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری صورت یہ ہے کہ لوگ سات سو میٹر بلندی پر اپنا گاؤں سے چلیں اور سڑک نہ ہونے کی وجہ سے دو ہزار سے تین ہزار میٹر بلند چھ یا سات پہاڑ پار کریں۔ بہت سے متاثرین اپنے علاقے سے نہیں نکل پائیں گے۔ مکلائڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر میں ایسے خیمے تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یہاں پر بھی اتنے بڑے پیمانے پر خیمے تیار نہیں کیے جا سکتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اس آفت سے نمٹنا کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||